🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ
حج تمتع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4197
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَرَنَ خَشْيَةَ أَنْ يُصَدَّ عَنِ الْبَيْتِ، وَقَالَ: ( (إِنْ لَمْ يَكُنْ حَجَّةً فَعُمْرَةٌ) )
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج اور عمرہ کو ایک احرام میں اس اندیشہ کی وجہ سے جمع کیا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کو بیت اللہ تک جانے سے روک دیا جائے، پھر انھوں نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ خیال تھا کہ اگر حج نہ ہو سکا تو عمرہ تو کر لیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4197]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف يونس بن الحارث الثقفي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7011 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7011»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث تو ضعیف ہے اور اس کے ان الفاظ کی سمجھ آ رہی ہے نہ کسی مناسبت کا پتہ چل رہا ہے، کیونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع ادا کر رہے تھے، اس وقت روک دیے جانے کا کوئی خطرہ نہیں تھا، کیونکہ اللہ تعالی نے اسلام کو غلبہ عطا کر دیا تھا، مکہ مکرمہ فتح ہو چکا تھا،ایک سال پہلے ایام حج میں یہ اعلان کیا جا چکاتھا کہ آئندہ کوئی مشرک اور ننگا آدمی طواف نہیں کر سکے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چالیس ہزار کے لگ بھگ صحابہ موجود تھے۔ بہرحال ممکن ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کسی گمان کی وجہ سے یہ الفاظ کہہ دیئے ہوں، یا ان سے نیچے کسی راوی سے کوئی غلطی ہو گئی ہو، جبکہ سند بھی ضعیف ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج قران ادا کیا تھا، خلفائے راشدین کو یہ علم تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا جائز ہے، اس کے باوجود انھوں نے یہ رائے دی تھی سفرِ حج میں صرف حج ادا کیا جائے اور بعد میں عمرہ کی ادائیگیکے لیے از سرِ نو سفر کیا جائے، تاکہ اجر و ثواب زیادہ ملے، ان کی اس رائے کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالی نے مال و دولت جیسے اسباب عطا کر دیئے تھے۔ حافظ ابن کثیر نے ”البدایۃ والنھایۃ“ میں حجۃ الوداع کے موقع پر چالیس ہزار کی تعداد کا ذکر کیا ہے، جبکہ الرحیق المختوم اور رحمۃ للعالمین اور دیگر سیرت نگاروں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ چوبیسیا چوالیس ہزار ذکر کی ہے۔ (عبد اللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف يونس بن الحارث الثقفي


Al-Fath al-Rabbani Hadith 4197 in Urdu