🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

30. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ
حج تمتع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4186
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَجْمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَمَنْ أَرَادَ ذَلِكَ فَلْيَقُلْ كَمَا أَقُولُ، ثُمَّ لَبَّى قَالَ: لَبَّيْكَ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ مَعًا، قَالَ: وَقَالَ سَالِمٌ وَقَدْ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَاللَّهِ إِنَّ رِجْلِي لَتَمَسُّ رِجْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَيُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا
۔ سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں: ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی معیّت میں حج کے لیے روانہ ہوئے، جب ذوالحلیفہ کے مقام پر پہنچے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو حج اور عمرہ کو اکٹھا ادا کرنا چاہتا ہوں، لہٰذا جو آدمی اس طرح کرنا چاہتا ہو، وہ اسی طرح کہے جیسے میں کہوں، پھر انہوں نے یوں تلبیہ پڑھا: لَبَّیْکَ بِحَجٍّ وَعُمْرَۃٍ مَعًا (میں حاضر ہوں، حج اور عمرے دونوں کے ساتھ)۔ سالم کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتلائی: اللہ کی قسم! دورانِ سفر میری ٹانگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ٹانگ کو لگ رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھ رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4186]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1251، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13984 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14029»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1251
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4187
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنِّي أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا عَسَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّى مَاتَ وَلَمْ يَنْزِلْ قُرْآنٌ فِيهِ يُحَرِّمُهُ، وَإِنَّهُ كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيَّ فَلَمَّا اكْتَوَيْتُ أُمْسِكَ عَنِّي، فَلَمَّا تَرَكْتُهُ عَادَ إِلَيَّ
۔ مطرف کہتے ہیں:سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے نفع پہنچائے گا، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع کر کے ادا کیا تھا،پھر نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا سے رخصت ہونے تک اس سے منع فرمایا اور نہ کوئی قرآن مجید کا ایسا حصہ نازل ہوا، جس نے اسے حرام کر دیا ہو۔ نیز میں عمران کہتا ہوں: اللہ کے فرشتے مجھے سلام کہا کرتے تھے، لیکن جب میں نے (بواسیر کے زخم کا علاج کرنے کے لیے اس کو) داغا تو انھوں نے سلام کہنا بند کر دیا، پھر جب میں نے داغنے کا یہ عمل ترک کر دیا تو وہ مجھے دوبارہ سلام کہنے لگ گئے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4187]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1226، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19833 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20071»
وضاحت: فوائد: … زخم کو داغنا جائز ہے، لیکن مکروہ ہے، کیونکہیہ توکل اور ایمان کے اعلی درجے کے منافی ہے، اسی کراہت کی بنا پر فرشتوں نے سلام کا سلسلہ منقطع کر دیا تھا۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1226
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4188
عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ عَنِ الْهِرْمَاسِ بْنِ زِيَادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ أَبِي فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرٍ وَهُوَ يَقُولُ: ( (لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا) )
۔ ہر ماس بن زیاد کہتے ہیں: میں اپنے والد کے پیچھے سواری پر بیٹھا تھا، میں نے اس حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹ پر سوار تھے اور یوں تلبیہ پکار رہے تھے: لَبَّیْکَ بِحَجَّۃٍ وَعُمْرَۃٍ مَعًا۔ (میں حج اور عمرہ دونوں کے لئے حاضر ہوں)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4188]
تخریج الحدیث: «حديث حسن دون قوله: ((لبيك بحجة وعمرة معا۔)) فانھا زيادة منكرة، عبد الله بن عمران الاصبھاني اخطأ في ھذا الحديث۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 534، وفي ’’الاوسط‘‘: 4323، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15971 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16067»

الحكم على الحديث: حديث حسن دون قوله: ((لبيك بحجة وعمرة معا۔)) فانھا زيادة منكرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4189
عَنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ أَنَّ الصُّبَيَّ بْنَ مَعْبَدٍ كَانَ نَصْرَانِيًّا تَغْلِبِيًّا أَعْرَابِيًّا (وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّ رَجُلًا كَانَ نَصْرَانِيًّا يُقَالُ لَهُ الصُّبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ) فَأَسْلَمَ فَسَأَلَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ فَقِيلَ لَهُ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَرَادَ أَنْ يُجَاهِدَ، فَقِيلَ لَهُ: حَجَجْتَ؟ فَقَالَ: لَا، فَقِيلَ: حُجَّ وَاعْتَمِرْ ثُمَّ جَاهِدْ، فَانْطَلَقَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْحَوَابِطِ، أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا، فَرَآهُ زَيْدُ بْنُ صَوْحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ فَقَالَا: لَهُوَ أَضَلُّ مِنْ جَمَلِهِ أَوْ مَا هُوَ بِأَهْدَى مِنْ نَاقَتِهِ، فَانْطَلَقَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهِمَا فَقَالَ: هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الْحَكَمُ: فَقُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ: حَدَّثَكَ الصُّبَيُّ؟ فَقَالَ: نَعَمْ
۔ سیدنا ابو وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: صبی بن معبد بنو تغلب کا ایک بدّو آدمی تھا، وہ مذہباً عیسائی تھا، پھر اس نے اسلام قبول کر لیا، اس کے بعد اس نے پوچھا: کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ اسے بتلایا گیا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، جب اس نے جہاد کا ارادہ کیا تو اس سے پوچھا گیا: کیا تم نے حج کیا ہے؟ اس نے بتلایا: جی نہیں۔ اس سے کہا گیا: تم پہلے حج اور عمرہ کر لو، پھر جہاد کرنا، پس وہ اس مقصد کے لیے روانہ ہوگیا اور جب وہ حوابط مقام پر پہنچا تو اس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا،،زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ نے اسے اس طرح دیکھ کر کہا: یہ تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے، یایہ تو اپنی اونٹنی سے زیادہ ہدایت والا نہیں،یہ سن کر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان دونوں کی بات کا ان سے ذکر کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق ملی ہے۔حکم کہتے ہیں: میں نے ابووائل سے پوچھا: کیا صبی نے تم کو یہ حدیث بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4189]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1798، 1799، والنسائي: 5/ 146، وابن ماجه: 2970، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 83 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 83»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تو حج و عمرہ کو جمع کرنے سے منع کرتے تھے، لیکن اس مقام پر اس عمل کو سنت کہہ رہے ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بعض مصلحتوں کی بنا پر اس کوجائز سمجھتے تھے۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 1798
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4190
عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ) ) ، قَالَ: وَقَرَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
۔ سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیاہے۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود حجۃ الوداع کے موقع پر ان دونوں کو ایک احرام میں جمع کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4190]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2977، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17583 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17726»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے دو معانی ہو سکتے ہیں: (۱) حج کے مہینوں میں عمرہ ادا کیا جا سکتا ہے، جبکہ اس سے پہلے دورِ جاہلیت میں اس چیز کو بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ (۲) حج قران کرنا، جس میں حج کے افعال میں عمرہ داخل ہو جاتا ہے اور ایک طواف اور ایک سعی حج اور عمرہ دونوں کی طرف سے کفایت کر جاتے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحيح لغيره ۔ أخرجه ابن ماجه: 2977
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4191
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْعَقِيقِ، يَقُولُ: ( (أَتَانِيَ اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي، فَقَالَ: صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ وَقُلْ عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ) ) ، قَالَ الْوَلِيدُ، يَعْنِي ذَا الْحُلَيْفَةِ
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے وادیٔ عقیق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: آج رات میرے ربّ کی طرف سے ایک آنے والے (فرشتے یعنی جبریل علیہ السلام) نے آ کر کہا: آپ اس مبارک وادی میں نماز ادا کریں اور یوں کہیں کہ یہ عمرہ حج کے ساتھ ہی ہے۔ ‘ ولید راوی کہتے ہیں: وادی سے مراد ذوالحلیفہ ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4191]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2337، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 161 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 161»
وضاحت: فوائد: … وادیٔ عقیق سے مراد ذوالحلیفہ ہے، جو کہ اہل مدینہ کی میقات ہے، برکت کی وجوہات کا علم اللہ تعالی کو ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس وادی جو نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا، اس سے مراد نماز فجر ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2337
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4192
عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، وَعُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ، وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُمَا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَهَلَّ بِهِمَا فَقَالَ: لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ مَعًا، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تَرَانِي أَنْهَى النَّاسَ عَنْهُ وَأَنْتَ تَفْعَلُهُ؟ قَالَ: لَمْ أَكُنْ أَدَعُ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ
۔ مروان بن حکم کہتے ہیں: میں سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان حاضرہوا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع سے اور حج اور عمرے کو ایک احرام میں جمع کرنے سے منع کر رہے تھے۔ لیکن جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا تو انہوں نے ان دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھا اور یوں کہا: لَبَّیْکَ بِعُمْرَۃٍ وَحَجٍّ مَعًا (میں حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھتا ہوں)، یہ سن کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تم دیکھ رہے ہو کہ میں لوگوں کو ایسا کرنے سے روک رہا ہوں اور تم پھر وہی کام کر رہے ہو؟سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: میں کسی آدمی کے قول کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت چھوڑنے والا نہیں ہوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4192]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1563، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1139 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1139»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1563
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4193
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كُنَّا نَسِيرُ مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِذَا رَجُلٌ يُلَبِّي بِهِمَا جَمِيعًا، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا عَلِيٌّ فَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّي نَهَيْتُ عَنْ هَذَا؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ لَمْ أَكُنْ لِأَدَعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِكَ
۔ (دوسری سند) مروان کہتے ہیں: ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہے تھے کہ ایک آدمی حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھ رہا تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتلایا کہ یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں، تو انھوں نے کہا: کیا تم جانتے نہیں کہ میں نے اس عمل سے روکا ہوا ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جی بالکل جانتا ہوں، لیکن میں تمہارے قول کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کو نہیں چھوڑ سکتا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4193]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 733»
وضاحت: فوائد: … ہم پہلے یہ گزارش کر چکے ہیں کہ جن خلفاء نے حج کے ساتھ عمرہ کرنے سے منع کیا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ یہ چاہتے تھے کہ لوگ حج کے لیے علیحدہ سفر کریں اور عمرے کے لیے علیحدہ، تاکہ وہ زیادہ اجر و ثواب کے مستحق ٹھہریں، جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہو رہا ہے، جبکہ ان کو علم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس موسم میں عمرہ کرنے کا حکم بھی دیا تھا، سنن نسائی کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حج کے ساتھ عمرہ کرنے سے منع کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے عمرہ کا تلبیہ کہا، لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو منع نہ کیا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ تمتع کرتے نہیں سنا تھا؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں۔
اگلی حدیث اس معاملے میں زیادہ واضح ہے، جس کے مطابق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے اس حکم کو اپنی ذاتی رائے کا نتیجہ سمجھ رہے ہیں، جو چاہے اس کو اپنا لے اور جو چاہے اس کو ترک کر دے۔

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 733
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4194
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَاللَّهِ! إِنَّا لَمَعَ عُثْمَانَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْجُحْفَةِ، وَمَعَهُ رَهْطُ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ فِيهِمْ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيُّ، إِذْ قَالَ عُثْمَانُ وَذُكِرَ لَهُ التَّمَتُّعُ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ إِنَّ أَتَمَّ لِلْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَنْ لَا يَكُونَا فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، فَلَوْ أَخَّرْتُمْ هَذِهِ الْعُمْرَةَ حَتَّى تَزُورُوا هَذَا الْبَيْتَ زَوْرَتَيْنِ كَانَ أَفْضَلَ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ وَسَّعَ فِي الْخَيْرِ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي يَعْلِفُ بَعِيرًا لَهُ فَبَلَغَهُ الَّذِي قَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: أَعَمَدْتَ إِلَى سُنَّةٍ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرُخْصَةٍ رَخَّصَ اللَّهُ تَعَالَى بِهَا لِلْعِبَادِ فِي كِتَابِهِ، تُضَيِّقُ عَلَيْهِمْ فِيهَا وَتَنْهَى عَنْهَا وَقَدْ كَانَتْ لِذِي الْحَاجَةِ وَلِنَائِي الدَّارِ، ثُمَّ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا، فَأَقْبَلَ عُثْمَانُ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: وَهَلْ نَهَيْتُ عَنْهَا؟ إِنِّي لَمْ أَنْهَ عَنْهَا، إِنَّمَا كَانَ رَأْيًا أَشَرْتُ بِهِ، فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهِ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ
۔ سیدناعبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہم سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ حجفہ کے مقام پر تھے، آپ کے ساتھ اہل شام کا ایک قافلہ بھی تھا، اس میں حبیب بن مسلمہ فہری بھی تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے حج تمتع کا ذکر کیا گیا،پس انھوں نے کہا: یہ دونوں عمل حج کے مہینوں میں نہیں ہونے چاہئیں، ان کا خیال تھا کہ تم لوگ اس عمرہ کو مؤخر کر دو اور تم دو بار بیت اللہ کی زیارت کرو تو یہ زیادہ بہتر ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اب مال و دولت میں وسعت دے دی ہے۔ اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ وادی میں اپنے اونٹ کو چرا رہے تھے۔ جب ان کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید میں بندوں کو دی ہوئی سہولت اور رخصت کو ختم کرکے ان پر تنگی کرنا چاہتے ہیں اور ثابت شدہ عمل سے انہیں روکنا چاہتے ہیں؟یہ رخصت حاجت مندوں اور دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگوں کے لئے ہے۔ بعد ازاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: کیا میں نے ان دونوں کو جمع کرنے سے منع کیا ہے؟ میں نے تو ایسا کرنے سے منع نہیں کیا،یہ تو میری ایک رائے تھی، جس کا میں نے اظہار کیا، اب جو چاہتا ہے، وہ اسے اختیار کر لے اور جو چاہتا ہے، وہ اسے ترک کر دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4194]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 707»
وضاحت: فوائد: … چونکہ عہد ِ نبوی کی بہ نسبت خلفائے راشدین کے دور میں مختلف اسباب کی بنا پر مال و دولت میں بہت زیادہ وسعت پیدا ہو گئی تھی، اس لیےیہ خلفائے کرام چاہتے تھے کہ لوگ ایک ہی سفر میں حج و عمرہ ادا کر کے مطمئن نہ ہو جائیں، بلکہ حج کے الگ سے سفر کریں اور عمرہ کے الگ سے، اس طرح سے ان خلفاء پر کوئی طعن نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ان کا مقصد نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی مخالفت نہیں تھا، بلکہ یہ تھا کہ لوگ زیادہ نیکیاں حاصل کر لیں، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو گنجائش دی تھی، وہ برقرار ہے۔ اس حدیث ِ مبارکہ کے آخر میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کتنی خوبصورت بات کی ہے کہ انھوں نے حج کے مہینوں میں عمرہ ادا کرنے سے منع نہیں کیا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی اجازت دے چکے تھے، وہ تو دراصل لوگوں کو یہ مشورہ دینا چاہتے تھے کہ اب حج کے موقع پر صرف حج کر لو اور بعد میںعمرہ کے لیے نیا سفر کر کے آنا، تاکہ دو عبادتوں کے لیے دو مستقل سفر ہوں اور اجر و ثواب میں اضافہ ہو۔

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 707
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4195
عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ إِنَّ أَنَسًا أَخْبَرَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ) ) ، قَالَ: وَهِلَ أَنَسٌ، خَرَجَ فَلَبَّى بِالْحَجِّ وَلَبَّيْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا قَدِمَ أَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَنَسٍ، فَقَالَ: مَا تَعُدُّونَا إِلَّا صِبْيَانًا
۔ بکر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتلایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں تلبیہ پڑھا تھا: لَبَّیْکَ بِعُمْرَۃٍ وَحَجٍّ (میں عمرہ اور حج دونوں کے لئے حاضر ہوں)یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا انس رضی اللہ عنہ بھول گئے ہیں، بات یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا تلبیہ پڑھا اور ہم نے بھی حج کا تلبیہ پڑھا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور نہیں ہیں، وہ عمرہ کے بعد احرام کھول دیں۔ بکر کہتے ہیں: جب میں نے یہ بات سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو بتائی تو وہ کہنے لگے: اصل میں تم ہمیں بچے سمجھتے ہو، (اس لیے ہماری باتوں پر اعتماد نہیں کرتے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4195]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1232، وأخرج بنحوه البخاري: 4353، 4354، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5147 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5147»
وضاحت: فوائد: … صحیح بات یہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی بات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احرام کی ابتدائی حالت پر محمول کیا جائے اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی بات کو احرام کی آخری اور درمیانی حالت پر محمول کیا جائے، جو صورت سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں، اس کا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو علم نہیں تھا، جس کا سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بڑا معقول جواب دیا۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1232
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں