🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ
حج تمتع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4200
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَ وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّى مَاتَ، وَعُمَرُ حَتَّى مَاتَ، وَعُثْمَانُ حَتَّى مَاتَ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ نَهَى عَنْهَا مُعَاوِيَةُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَعَجِبْتُ مِنْهُ، وَقَدْ حَدَّثَنِي أَنَّهُ قَصَّرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، سیدنا ابوبکر نے، سیدنا عمر نے اور سیدنا عثمان نے دنیا سے رخصت ہونے تک تمتع کی اجازت دیئے رکھی۔سب سے پہلے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیا، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے ان کے حج تمتع سے منع کرنے پر تعجب ہوا، کیونکہ انہوں نے خود مجھے بیان کیا تھا کہ انہوں نے تیر کے چوڑے پھل کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال تراشے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4200]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم۔ أخرجه الترمذي: 822، والنسائي: 5/ 153، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2664»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکنیہ دو باتیں درست ہیں کہ سیدنا معاویہ حج کے مہنیوں میں عمرے سے منع کرتے تھے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کاٹے تھے، لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کون سا موقع تھا کہ جس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کاتے تھے، سنن ابو داود کی روایت میں ہے کہ بال کاٹنے کا یہ واقعہ مروہ پر پیش آیا تھا اور اس میں تقصیر کی گئی تھی، جبکہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (۱۰) ذوالحجہ کو منی میں سر منڈوایا تھا۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے عمرۂ جعرانہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کاٹے تھے، عمرۂ قضا کے موقع پر تو وہ مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے، سنن ابو داود کی روایت میں”لِحَجَّتِہٖ“ کے الفاظ شاذ ہیں۔ اس تفصیل سے پتہ چلا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے تعجب کی کوئی گنجائش نہیں ہے، کیونکہ وہ حجۃ الوداع کا موقع ہی نہیں تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے قبل خلفائے راشدین حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے سے منع بھی کرتے تھے، لیکن اس کی گنجائش بھی دیتے تھے، منع کرنے کی وجوہات بیان کی جا چکی ہیں، رہا مسئلہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا تو ممکن ہے کہ ان کا منع کرنا بھی اسی نوعیت کا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس موضوع سے متعلقہ مرفوع روایات کا علم نہ ہونے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی رائے کا لحاظ کرنے کی وجہ سے انھوں نے سختی سے منع کر دیا ہو۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم ۔ أخرجه الترمذي: 822


Al-Fath al-Rabbani Hadith 4200 in Urdu