الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ
حج تمتع کا بیان
حدیث نمبر: 4203
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مُتْعَتَانِ كَانَتَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ فَانْتَهَيْنَا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نکاح متعہ اور حج تمتع دونوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اجازت تھی، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ان سے منع کیا تو ہم رک گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4203]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1249، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14834 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14895»
وضاحت: فوائد: … نکاح متعہ: کسی عورت سے مقررہ مدت تک نکاح کرنا۔ یہ نکاح عہد ِ نبوی میں ہی حرام ہو گیا تھا اور اس کی حرمت پر مسلمانوں پر اتفاق ہے، مگر بعض لوگوں کو اس کی حرمت کا علم نہ ہو سکا اور وہ اسے حسب ِ سابق جائز سمجھتے رہے، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس چیز کا علم ہوا تو انھوں سرکاری اعلان کے ذریعے اس کی حرمت کا دوبارہ اعلان کر دیا، لیکن جن لوگوں کو ساری تفصیل کا علم نہیں تھا، انھوں نے یہ سمجھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہی اس نکاح کو حرام قرار دیا ہے، نکاح متعہ کی مزید وضاحت کتاب النکاح میں آئے گی۔ حج تمتع کا جائز ہونا بھی اتفاقی مسئلہ ہے، پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اس سے منع کرنے کا کیا مطلب ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1249
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4203 in Urdu