🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ
حج تمتع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4206
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُفْتِي بِالَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الرُّخْصَةِ بِالتَّمَتُّعِ، وَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، فَيَقُولُ نَاسٌ لِابْنِ عُمَرَ: كَيْفَ تُخَالِفُ أَبَاكَ وَقَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ؟ فَيَقُولُ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ: وَيْلَكُمْ! أَلَا تَتَّقُونَ اللَّهَ، إِنْ كَانَ عُمَرُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ فَيَبْتَغِي فِيهِ الْخَيْرَ يَلْتَمِسُ بِهِ تَمَامَ الْعُمْرَةِ، فَلِمَ تُحَرِّمُونَ ذَلِكَ وَقَدْ أَحَلَّهُ اللَّهُ وَعَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، أَفَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعُوا أَمْ سُنَّةُ عُمَرَ؟ إِنَّ عُمَرَ لَمْ يَقُلْ لَكُمْ إِنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ حَرَامٌ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَتَمَّ الْعُمْرَةِ أَنْ تُفْرِدُوهَا مِنْ أَشْهُرِ الْحَجِّ
۔ سالم بن عبد اللہ بن عمرسے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق حج تمتع کے جواز کا فتویٰ دیا کرتے تھے۔ جب لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہتے کہ آپ کے والد تو حج تمتع سے منع کرتے ہیں، تو پھر آپ ان کے حکم کی مخالفت کیوں کرتے ہو تو وہ ان کو یوں جواب دیتے تھے: تم پر افسوس ہے، کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیاہے تو ان کا ارادہ بھی خیر کاہی ہو گا کہ تم مستقل طور پر عمرہ کرو، اب تم اسے حرام کیوں سمجھتے ہو؟ جبکہ اللہ نے اسے حلال کیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر عمل کیا ہے۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتباع کے زیادہ حق دار ہیں یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فعل؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تم سے یہ تو نہیں کہا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا حرام ہے، ان کا کہنا تو یہ تھا کہ مکمل عمرہ یہ ہے کہ تم اس کو حج کے مہینوں کے علاوہ مستقل طور پر ادا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4206]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة لضعف صالح بن ابي الاخضر۔ أخرجه الترمذي بسياقة اخري: 824، سياتي لفظ في الشرح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5700 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5700»
وضاحت: فوائد: … جامع ترمذی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سالم بن عبد اللہ کہتے ہیں: ایک شامی باشندے نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے حج کے ساتھ عمرہ کر لینے کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: ایسا کرنا درست ہے۔ شامی نے کہا: آپ کے باپ تو اس سے منع کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: اس بارے تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میرے باپ ایک چیز سے منع کرتے ہیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے عملاً کیا ہے تو میرے باپ کے حکم کی پیروی کی جائے گییا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی؟ اس آدمی نے کہا: جی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی پیروی کی جائے گی۔ یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ کام کیا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف بھذه السياقة لضعف صالح بن ابي الاخضر۔ أخرجه الترمذي بسياقة اخري: 824


Al-Fath al-Rabbani Hadith 4206 in Urdu