الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ
حج تمتع کا بیان
حدیث نمبر: 4209
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: اجْتَمَعَ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِعُسْفَانَ فَكَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَالْعُمْرَةِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تُرِيدُ إِلَى أَمْرٍ فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَنْهَى عَنْهَا، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: دَعْنَا مِنْكَ
۔ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ وادیٔ عسفان میں اکٹھے ہو گئے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع اور عمرہ سے منع کرتے تھے، لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ اس عمل سے روکنا چاہتے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کیا تھا، لیکن انھوں نے آگے سے کہا: آپ اپنی باتوں سے ہمیں معاف ہی رکھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4209]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1569، ومسلم: 1223، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1146 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1146»
وضاحت: فوائد: … سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی دلیل انتہائی مضبوط تھی، کیونکہ انھوںنے مقابلے میں جواز یا عدم جواز کی بات نہیں کی، بلکہ براہِ راست یہ کہہ دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود جو کام سرانجام دیتے تھے، اے عثمان! تم اس سے کیوں منع کرتے ہو۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1569
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4209 in Urdu