🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. بَابُ طَوَافِ الْقُدُومِ وَالرَّمَلِ وَالِاضْطِبَاعِ فِيهِ
طوافِ قدوم اور اس میں رمل اور اضطباع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4337
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: فِيمَ الرَّمَلَانُ الْآنَ وَالْكَشْفُ عَنِ الْمَنَاكِبِ وَقَدْ أَطَّأَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ وَنَفَى الْكُفْرَ وَأَهْلَهُ، وَمَعَ ذَلِكَ لَا نَدَعُ شَيْئًا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اب دورانِ طواف رمل اور کندھوں کو ننگا کرنے کا کیا مقصد ہے؟ اب تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ دے دیا ہے اور کفر اور اہل کفر کو ختم کر دیا ہے، لیکن اس کے باوجود ہم اس عمل کو ترک نہیں کریں گے جو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4337]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1887،و ابن ماجه: 2952، وأخرجه بنحوه البخاري: 1605، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 317 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 317»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بڑی خوبصورت بات کی ہے کہ رمل اور اضطباع کا سبب وہ مشرک تھے، جو عمرۂ جعرانہ کے موقع پر حطیم کی طرف بیٹھے تھے اور جن کا نظریہیہ تھا کہ یثرب کے بخار نے مسلمانوں کو کمزور اور لاغر کر دیا ہے، ان کے اس تصور کو ردّ کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمل اور اضطباع کا حکم دیا تھا، غلبۂ اسلام کے بعد سرے سے یہ سبب ہی ختم ہو چکا تھا، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو عمل کر دیا ہے، اس کو بحال رکھا جائے، اگرچہ اس کا سبب ختم ہو چکا ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1887


Al-Fath al-Rabbani Hadith 4337 in Urdu