یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. باب الطائف يخرج فى طوافه عن الحجر ليكون طائفا بالبيت كله من وراء
اس امر کا بیان کہ طواف کرنے والاآدمی حطیم کے باہر سے طواف کرے، تاکہ ابراہیم علیہ السلام کی¤بنیادوں کے مطابق پورے بیت اللہ کا طواف ہوسکے
حدیث نمبر: 4366
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَدْخُلَ الْبَيْتَ فَأُصَلِّيَ فِيهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدِي فَأَدْخَلَنِي فِي الْحِجْرِ، فَقَالَ لِي: ( (صَلِّي فِي الْحِجْرِ إِذَا أَرَدْتِ دَخُولَ الْبَيْتِ فَإِنَّمَا هُوَ قِطْعَةٌ مِنَ الْبَيْتِ وَلَكِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا حِينَ بَنَوُا الْكَعْبَةَ، فَأَخْرَجُوهُ مِنَ الْبَيْتِ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں چاہتی تھی کہ بیت اللہ کے اندر داخل ہوکر نماز پڑھوں، لیکن ہوا یوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اورمجھے حطیم کے اندر داخل کر کے مجھ سے فرمایا: اگر تم بیت اللہ کے اندر جانا چاہتی ہو تو یہاں نماز پڑھ لو، کیونکہ یہ بھی بیت اللہ کا حصہ ہے، لیکن چونکہ تمہاری قوم قریش کعبہ کی تعمیر کے وقت ابراہیمی بنیادوں پر تعمیر کرنے سے قاصر رہی، اس لیے انہوں نے اتنا حصہ بیت اللہ سے نکال دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4366]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 2028، والترمذي: 876، والنسائي: 5/219، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24616 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25123»
وضاحت: فوائد: … اصولِ فقہ کا ایک قانون ہے، جس کو دو طرح سے تعبیر کیا گیا ہے: ”یُدْفَعُ اَشَدُّ الضَّرَرَیْنِ بِتَحَمُّلِ اَخَفِّھِمَا“ (چھوٹے ضرر کو اختیار کر کے بڑے ضرر سے بچا جائے گا)”دَفْعُ اَعْظَمِ الْمَفْسَدَتَیْنِ بِاحْتِمَالِ اَدْنَاھُمَا“ (چھوٹی مفسدت کو اختیار کر کے بڑی مفسدت سے بچا جائے گا)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث ِ مبارکہ سے بھییہی قانون ثابت ہے کہ ایک طرف قریب الاسلام لوگوں کے متنفر ہو جانے کی متوقع مفسدت ہے اور دوسری طرف کعبہ کو نامکمل حالت میں باقی چھوڑنے کی مفسدت ہے، بڑی مفسدت لوگوں کا متنفر ہونا ہے، اس لیے اس سے بچنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کی عمارت کو جوں کا توں رہنے دیا۔ اس کو مصلحت اور حکمت کہتے ہیں، لیکن قارئین کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ عام آدمی اس مصلحت و مفسدت کا فیصلہ نہیں کرسکتا، یہ فیصلہ کرنے کے لیے علم شریعت میں رسوخ پیدا کرنے کے بعد اس کے مقاصد کو جاننا ضروری ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4366 in Urdu