🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. بَابُ وُجُوبِ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ وَوَقْتِهِ وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ
وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4447
عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي بِعَرَفَةَ فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ، قُلْتُ: هَذَا مِنَ الْحُمْسِ مَا شَأْنُهُ هَاهُنَا
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: عرفہ میں میرا اونٹ گم ہوگیاتھا، میں اسے تلاش کررہا تھا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرفہ میں وقوف کیے ہوئے دیکھا اور کہا: یہ تو قریشی ہیں، ان کا یہاں کیا کام ہے؟ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4447]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1664، ومسلم: 1220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16857»
وضاحت: فوائد: … قاضی عیاض نے کہا: یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کسی حج کا ہے، اس وقت سیدنا جبیر کافر تھے اور فتح مکہ یا غزوۂ خیبر کے موقع پر مسلمان ہوئے، ان کو اس سے تعجب ہو رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو قریشی ہیں اور عرفات میں وقوف کر رہے ہیں۔ اگلے باب کی پہلی حدیث سے اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ دورِ جاہلیت میں قریشی لوگ وقوفِ عرفہ ترک کر کے مزدلفہ میں ہی ٹھہر جاتے اور کہتے تھے: ہم لوگ ”حُمْس“ ہیں، اس لیے ہم حرم سے نہیں نکلیں گے اور باقی سارے لوگ عرفہ میں پہنچ کر وقوف کرتے تھے۔”حُمْس“، ”تَحَمُّس“ سے ماخوذ ہے، جس کے معانی تشدّد اور مذہب میں سخت اور پکے ہونے کے ہیں، اس سے مراد قریشی اور وہ قبائل ہیں، جنہوں نے اُن کی طرح تشدّد اختیار کیا ہوا تھا۔ عرفہ کا وقوف حج کا سب سے مشہور رکن ہے، اس کے رہ جانے سے حج فوت ہو جائے گا۔
اس دن کا وقوف کیسے کیا جائے؟ اس کا بیان اگلے باب میں آ رہا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1664


Al-Fath al-Rabbani Hadith 4447 in Urdu