الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
77. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكُنْيَةِ وَاللَّقَبِ وَمَنْ كَنَّاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
لقب اور ان افراد کا بیان جن کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنیتیں رکھیں
حدیث نمبر: 4776
عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ ابْنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا لَهُ لَقَبٌ أَوْ لَقَبَانِ قَالَ فَكَانَ إِذَا دَعَا رَجُلًا بِلَقَبِهِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَكْرَهُ هَذَا قَالَ فَنَزَلَتْ {وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ} [الحجرات: 11]
۔ ابو جبیرہ بن ضحاک انصاری اپنے چچوں سے بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم میں سے ہر ایک کے ایک دو دو لقب تھے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی آدمی کو اس کے لقب کے ساتھ پکارتے تو ہم کہتے: اے اللہ کے رسول! وہ آدمی اس لقب کو ناپسند کرتا ہے، پھر اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {وَلا تَنَابَزُوا بِالألْقَابِ} … اور کسی کو برے لقب نہ دو (سورۂ حجرات: ۱۱) [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4776]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح ان شاء الله، أخرجه أبوداود: 4962، والترمذي: 3268، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23227 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23615»
وضاحت: فوائد: … استہزا اور تحقیر کے لیے لوگوں کے ایسے نام رکھ لینا جو انہیں ناپسند ہوں یا اچھے بھلے ناموں کو بگاڑ کر بولنا، یہ برے القاب کی صورتیں ہیں، اس آیت میں ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے، ادنی واعلی کی تمیز کیے بغیر وقار اور عزت و احترام ہر آدمی کا حق ہے اور وہ اس کو ملنا چاہیے، اگرچہ اشراف طبقے کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ان شاء الله
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4776 in Urdu