الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. فَضْلُ الشُّهَدَاءِ
شہداء کی فضیلت
حدیث نمبر: 4883
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ قَالَ الَّذِينَ إِنْ يُلْقَوْا فِي الصَّفِّ يَلْفِتُونَ وُجُوهَهُمْ حَتَّى يُقْتَلُوا أُولَئِكَ يَنْطَلِقُونَ فِي الْغُرَفِ الْعُلَى مِنَ الْجَنَّةِ وَيَضْحَكُ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ وَإِذَا ضَحِكَ رَبُّكَ إِلَى عَبْدٍ فِي الدُّنْيَا فَلَا حِسَابَ عَلَيْهِ
۔ سیدنا نُعیم بن ہمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ کون سے شہداء زیادہ فضیلت والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ لو گ ہیں کہ جب صف میں دشمن سے ان کا مقابلہ ہوتا ہے تو وہ اپنے چہروں کو اُن ہی کی طرف متوجہ کر لیتے ہیں، یہاں تک کہ شہید ہو جاتے ہیں، یہ وہ لوگ جو جنت کے بلند بالا خانوں میں چلتے ہیں اور ان کا ربّ ان کی طرف ہنستا ہے، اور جب تیرا ربّ دنیا میں ہی کسی کی طرف ہنس پڑتا ہے تو اس پر کوئی حساب نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4883]
تخریج الحدیث: «حديث قوي، أخرجه ابويعلي: 6855، و سعيد بن منصور في سننه: 2566، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22843»
وضاحت: فوائد: … ہنسنا اللہ تعالیٰ کی بلاریب صفت ہے، وہ ہنستا ہے، جیسے اس کی شان کے لائق ہے، ہمیں نہ کیفیت کا علم ہے اور نہ کیفیت کو معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا مسئلہ ہماری عقل سے ما وراء ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث قوي
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4883 in Urdu