🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. فَضْلُ الشُّهَدَاءِ
شہداء کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4875
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الشُّهَدَاءُ عَلَى بَارِقِ نَهْرٍ بِبَابِ الْجَنَّةِ فِي قُبَّةٍ خَضْرَاءَ يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ رِزْقُهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شہداء جنت کے دروازے پر سبز قبے میں نہر کی ایک طرف ہوتے ہیں، صبح و شام ان کا رزق جنت سے آتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4875]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن حبان: 4658، وابن ابي شيبة: 5/ 290، والحاكم: 2/ 74، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2390 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2390»
وضاحت: فوائد: … اس نعمت کی کیفیت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں، بہرحال یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑا اکرام ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4876
عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي أَنَّ أَرْوَاحَ الشُّهَدَاءِ فِي طَيْرٍ خُضْرٍ تَعْلُقُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ نَسَمَةٌ تَعْلُقُ فِي ثَمَرَةٍ أَوْ شَجَرِ الْجَنَّةِ
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شہداء کی روحیں سبز پرندوں میں جنت کے پھلوں یا درختوں سے لٹکتی ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4876]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون لفظ الشھدائ والصحيح ان نسمة المؤمن، أخرجه الترمذي:1641، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27166 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27708»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4877
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَعَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْهِنْدِ فَإِنِ اسْتُشْهِدْتُ كُنْتُ مِنْ خَيْرِ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ رَجَعْتُ فَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے غزوۂ ہند کا وعدہ کیا، اگر میں اس میں شہید ہو گیا تو میں بہترین شہید ہوں گا اور اگر میں اس سے واپس آ گیا تو ابو ہریرہ (آگ سے) آزاد ہو کر واپس آئے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4877]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، جبر بن عيبدة لم يعرف من ذا، أخرجه النسائي: 6/ 42، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7128 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7128»
وضاحت: فوائد: … غزوۂ ہند کے بارے میں درج ذیل حدیث صحیح ہے، جو مذکورہ بالا حدیث کے الفاظ وَعَدَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِی غَزْوَۃِ الْہِنْدِ کا شاہد بن سکتی ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4878
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا يَجِدُ الشَّهِيدُ مِنْ مَسِّ الْقَتْلِ إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ مَسَّ الْقَرْصَةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شہید قتل کی ضرب سے کوئی تکلیف نہیں پاتا، مگر اتنی جنتی تم میں سے کوئی چٹکی یا ڈنک کی تکلیف محسوس کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4878]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه النسائي:6/ 36، والترمذي: 1668، وابن ماجه: 2802، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7953 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7940»
وضاحت: فوائد: … شہادت کی خوشی اور جذبۂ ایمان کی شدت قتل کی تکلیف کا احساس ختم کر دیتی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4879
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ كَلْمٍ يُكْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ يَكُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهَا إِذَا طُعِنَتْ تَنْفَجِرُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْكِ قَالَ أَبِي يَعْنِي الْعَرْفَ الرِّيحَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر زخم جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں مسلمان کو لگتا ہے، یہ قیامت کے دن اسی ہیئت پر ہو گا، جب وہ زخم لگا گیا لیکن اس سے خون بہہ رہا ہو گا کہ اس کا رنگ تو خون والا ہو گا، لیکن خوشبو کستوری کی ہو گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4879]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 237، ومسلم: 1876، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8205 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8190»
وضاحت: فوائد: … زخموں کا اس طرح تازہ ہونا اور خون بہانا، یہ دراصل شہید کی فضیلت ہو گی اور شہادت کی دلیل بھی ہو گی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4880
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ اللَّهُ لِرَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ كِلَاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَالُوا كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يَقْتُلُ هَذَا فَيَلِجُ الْجَنَّةَ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الْآخَرِ فَيَهْدِيهِ إِلَى الْإِسْلَامِ ثُمَّ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُسْتَشْهَدُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کی طرف ہنستے ہیں، حالانکہ ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے، لیکن وہ دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک شہید ہو کر جنت میں داخل ہو جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ دوسرے یعنی قاتل پر رجوع کرتا ہے اور اس کو اسلام کی طرف ہدایت دے دیتا ہے، پھر وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور شہید ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4880]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2826، ومسلم: 1890، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8224 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8208»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4881
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى حَرَّةِ وَاقِمٍ قَالَ فَدَنَوْنَا مِنْهَا فَإِذَا قُبُورٌ بِمَحْنِيَّةٍ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا هَذِهِ قَالَ قُبُورُ أَصْحَابِنَا ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى إِذَا جِئْنَا قُبُورَ الشُّهَدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا
۔ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ (مدینہ کے) واقم ٹیلے کے پاس موجود حرّہ ہمیں نظر آنے لگا، جب ہم اس کے قریب پہنچے تو نظر آیا کہ وہاں وادی کے پست مقام پر چند قبریں تھیں، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ہمارے ساتھیوں کی قبریں ہیں۔ پھر ہم آگے بڑھے، یہاں تک کہ شہداء کی قبروں کے پاس پہنچ گئے، وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4881]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه أبوداود: 2043، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1387 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1387»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجاہدین کی فضیلت و کرامت کو ثابت کرنے کے لیے ان کو اخوت کے ساتھ خاص کیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4882
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ مُقَنَّعٌ فِي الْحَدِيدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُسْلِمُ أَوْ أُقَاتِلُ قَالَ لَا بَلْ أَسْلِمْ ثُمَّ قَاتِلْ فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَاتَلَ فَقُتِلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذَا عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا
۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، وہ لوہے کے ہتھیاروں سے لدا ہوا تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اسلام قبول کروں یا قتال کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تو پہلے اسلام قبول کر اور پھر قتال کر۔ پس وہ مسلمان ہو گیا اور پھر لڑا، یہاں تک کہ شہید ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے عمل تو تھوڑا کیا ہے، لیکن اس کو بہت زیادہ اجر دیا گیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4882]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2808، ومسلم: 1900، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18592 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18793»
وضاحت: فوائد: … اسلام کی چند گھڑیاں یا اس سے بھی کم زندگی پائی ہے، لیکن ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت کو اپنا مقدر بنا لیا، ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَائُ۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4883
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ قَالَ الَّذِينَ إِنْ يُلْقَوْا فِي الصَّفِّ يَلْفِتُونَ وُجُوهَهُمْ حَتَّى يُقْتَلُوا أُولَئِكَ يَنْطَلِقُونَ فِي الْغُرَفِ الْعُلَى مِنَ الْجَنَّةِ وَيَضْحَكُ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ وَإِذَا ضَحِكَ رَبُّكَ إِلَى عَبْدٍ فِي الدُّنْيَا فَلَا حِسَابَ عَلَيْهِ
۔ سیدنا نُعیم بن ہمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ کون سے شہداء زیادہ فضیلت والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ لو گ ہیں کہ جب صف میں دشمن سے ان کا مقابلہ ہوتا ہے تو وہ اپنے چہروں کو اُن ہی کی طرف متوجہ کر لیتے ہیں، یہاں تک کہ شہید ہو جاتے ہیں، یہ وہ لوگ جو جنت کے بلند بالا خانوں میں چلتے ہیں اور ان کا ربّ ان کی طرف ہنستا ہے، اور جب تیرا ربّ دنیا میں ہی کسی کی طرف ہنس پڑتا ہے تو اس پر کوئی حساب نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4883]
تخریج الحدیث: «حديث قوي، أخرجه ابويعلي: 6855، و سعيد بن منصور في سننه: 2566، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22843»
وضاحت: فوائد: … ہنسنا اللہ تعالیٰ کی بلاریب صفت ہے، وہ ہنستا ہے، جیسے اس کی شان کے لائق ہے، ہمیں نہ کیفیت کا علم ہے اور نہ کیفیت کو معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا مسئلہ ہماری عقل سے ما وراء ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4884
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ الْحَكَمُ سِتَّ خِصَالٍ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ مِنْ دَمِهِ وَيَرَى قَالَ الْحَكَمُ وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ وَيُزَوَّجَ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ وَيُجَارَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَيَأْمَنَ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ قَالَ الْحَكَمُ يَوْمَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَيُوضَعَ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ الْيَاقُوتَةُ مِنْهُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَيُزَوَّجَ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ وَيُشَفَّعَ فِي سَبْعِينَ إِنْسَانًا مِنْ أَقَارِبِهِ
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب کندی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ہاں شہید کے لیے چھ خصلتیں ہیں: اس کو خون گرتے ہی اس کو بخش دیا جاتا ہے، اسی وقت وہ جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتا ہے، اس کو ایمان کی پوشاک پہنا دی جاتی ہے، آہو چشم حور سے اس کی شادی کر دی جاتی ہے، اس کو عذابِ قبر سے پناہ دے دی جاتی ہے، وہ بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہتاہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جاتا ہے کہ اس کا ایک موتی دنیا و ما فیہا سے بہتر ہوتا ہے، بہتر آہو چشم حوروں سے اس کی شادی کر دی جاتی ہے اور اس کے ستر رشتہ داروں کے حق میں اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4884]
تخریج الحدیث: «صحيح،قاله الالباني، أخرجه الترمذي:1663، وابن ماجه: 2799، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17182 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17314»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {لَا یَحْزُنُھُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ وَتَتَلَقّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ھٰذَا یَوْمُکُمُ الَّذِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۔} … وہ بڑی گھبراہٹ ان (نیکی والوں) کو غمگین نہیں کر سکے گی اور فرشتے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ یہی تمہارا وہ دن ہے جس کا تم وعدہ دیئے جاتے رہے۔ (سورۂ انبیائ: ۱۰۳)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں