یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب لزوم طاعة الجيش لا ميرهم ما لم يأمرهم بمعصية وكراهة تفرقهم عند النزول
اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 4928
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْقِتَالِ فَرُمِيَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ بِسَهْمٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْجَبَ هَذَا وَقَالُوا حِينَ أَمَرَهُمْ بِالْقِتَالِ إِذَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا نَقُولُ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ {اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ} وَلَكِنْ اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا مَعَكُمَا مِنَ الْمُقَاتِلِينَ
۔ سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قتال کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی کو تیر لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: اس نے جنت کو واجب کر لیا ہے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو قتال کا حکم دیا تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر تو ہم وہ بات نہیں کریں گے، جو بنو اسرائیل نے کی تھی، انھوں نے کہا تھا: اے موسی! تو جا اور تیرا ربّ جائے، تم دونوں جا کر لڑو، بیشک ہم تو یہیں بیٹھنے والے ہیں۔ اے اللہ کے رسول! آپ اور آپ کا ربّ چلے، بیشک ہم وہ جنگجو ہیں، جو آپ کے ساتھ چلیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4928]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 306، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17641 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17791»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4928 in Urdu