یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب لزوم طاعة الجيش لا ميرهم ما لم يأمرهم بمعصية وكراهة تفرقهم عند النزول
اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 4932
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلْقَمَةَ بْنَ مُجَزِّزٍ عَلَى بَعْثٍ أَنَا فِيهِمْ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَأْسِ غَزَاتِنَا أَوْ كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ أَذِنَ لِطَائِفَةٍ مِنَ الْجَيْشِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسٍ السَّهْمِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ وَكَانَتْ فِيهِ دُعَابَةٌ يَعْنِي مِزَاحًا وَكُنْتُ مِمَّنْ رَجَعَ مَعَهُ فَنَزَلْنَا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ قَالَ وَأَوْقَدَ الْقَوْمُ نَارًا لِيَصْنَعُوا عَلَيْهَا صَنِيعًا لَهُمْ أَوْ يَصْطَلُونَ قَالَ فَقَالَ لَهُمْ أَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمُ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ قَالُوا بَلَى قَالَ فَمَا أَنَا بِآمِرِكُمْ بِشَيْءٍ إِنْ صَنَعْتُمُوهُ قَالُوا بَلَى قَالَ أَعْزِمُ عَلَيْكُمْ بِحَقِّي وَطَاعَتِي لَمَا تَوَاثَبْتُمْ فِي هَذِهِ النَّارِ فَقَامَ نَاسٌ فَتَحَجَّزُوا حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُمْ وَاثِبُونَ قَالَ احْبِسُوا أَنْفُسَكُمْ فَإِنَّمَا كُنْتُ أَضْحَكُ مَعَكُمْ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ قَدِمُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَمَرَكُمْ مِنْهُمْ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا تُطِيعُوهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علقمہ بن مجزز رضی اللہ عنہ کو ایک جہادی لشکر کا امیر بنا کر روانہ کیا، میں بھی اس لشکر میں تھا، جب ہم اپنے غزوے کے مقام تک پہنچ گئے، یا راستے میں تھے، اس امیر نے ایک گروہ کو علیحدہ کیا اور سیدنا عبد اللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر بنایا، یہ بدری صحابی تھے اور ان کے مزاج میں مذاق کا عنصر پایا جاتا تھا، جو لوگ ان کے ساتھ لوٹے تھے، میں بھی ان میں تھا، جب ہم نے راستے میں پڑاؤ ڈالا اور لوگوں نے کھانا بنانے کے لیے یا آگ سے حرارت حاصل کرنے کے لیے آگ جلائی تو سیدنا عبد اللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم لوگوں پر فرض نہیں ہے کہ تم میری بات سنو اور اطاعت کرو؟ انھوں نے کہا: جی بالکل، اس نے کہا: تو پھر میں تم کو اپنے اور اپنی اطاعت کے حق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود پڑو، لوگ کھڑے ہو گئے اور انھوں نے اپنی کمر پر کپڑا باندھا، جب اس امیر نے دیکھا کہ یہ تو واقعی آگ میں کودنے لگے ہیں تو اس نے کہا: رک جاؤ، میں تمہارے ساتھ مذاق کر رہا تھا، جب ان لوگوں نے واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ماجرا سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان امراء میں سے جو آدمی تم کو نافرمانی کا حکم دے، تو اس کی اطاعت نہ کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4932]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 2863، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11639 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11662»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4932 in Urdu