یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب الكف عن المحارب إذا عرف ب لا سلام ووعيد قاتله وعدر من أخطأ فى قتله لعدم فهم كلامه
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی¤وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
حدیث نمبر: 4987
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ صَحِبَ قَوْمًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَوَجَدَ مِنْهُمْ غَفْلَةً فَقَتَلَهُمْ وَأَخَذَ أَمْوَالَهُمْ فَجَاءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْبَلَهَا
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ مشرکوں کی ایک قوم کے ساتھی بنے، لیکن جب انھوں نے ان کو غافل پایا تو ان سب کو قتل کر دیا اور ان کا مال لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ مال قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4987]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه النسائي في الكبري: 8733، والطبراني في الكبير: 20/ 1076، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18153 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18334»
وضاحت: فوائد: … مشرکوں کو قتل کرنے کی جتنی صورتیں ہیں، یہ صورت ان میں سے نہیں ہے، بلکہ اس صورت میں امانت اور عہد کی پاسداری کا تقاضا یہ تھا کہ ان کو قتل نہ کیا جائے، کیونکہ انھوں نے مغیرہ پر اعتماد واعتبار کیا ہوا تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4987 in Urdu