🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب حل الغنيمة من خصوصياته صلى الله عليه وسلم وأمته وذكر أحكام تتعلق بالغنيمة قبل قسمتها
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5019
عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَرْيَةً مِنْ قُرَى الْمَغْرِبِ يُقَالُ لَهَا جَرَبَّةُ فَقَامَ فِينَا خَطِيبًا فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَا أَقُولُ فِيكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَامَ فِينَا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَاءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ يَعْنِي إِتْيَانَ الْحُبَالَى مِنَ السَّبَايَا وَأَنْ يُصِيبَ امْرَأَةً ثَيِّبًا مِنَ السَّبْيِ حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا يَعْنِي إِذَا اشْتَرَاهَا وَأَنْ يَبِيعَ مَغْنَمًا حَتَّى يُقْسَمَ وَأَنْ يَرْكَبَ دَابَّةً مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِيهِ وَأَنْ يَلْبَسَ ثَوْبًا مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ فِيهِ
۔ حنش صنعانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ مغرب کی جَرَبَّہ نامی بستی والوں سے جنگ کی، وہ خطاب کرنے کے لیے ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور کہا: اے لوگو! میں تم سے وہی بات کروں گا، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حنین والے دن ہمارے اندر کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے بندے کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنا پانی دوسرے کی کھیتی کو پلائے، یعنی استعمال شدہ لونڈی خریدنے کی صورت میں استبرائے رحم سے پہلے اس سے جماع کرے، تقسیم سے پہلے مالِ غنیمت بیچ دے، مسلمانوں کے مال غنیمت سے کوئی سواری لے کر اس پر سواری کرے اور اس کو لاغر کر کے اسے مال غنیمت میں چھوڑ دے اور مسلمانوں کے مالِ غنیمت میں سے کپڑا لے کر پہن لے اور پھر اس کو بوسیدہ کر کے مال غنیمت میں رکھ دے۔ دوسرے کی کھتی کو پانی پلانے کی ممانعت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ استبرائے رحم سے پہلے حاملہ قیدی خواتین سے خاص تعلق قائم نہ کیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5019]
تخریج الحدیث: «صحيح بشواھده، أخرجه ابوداود: 2159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16997 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17122»
وضاحت: فوائد: … حلال نہیں ہے کہ آدمی اپنا پانی دوسرے کی کھیتی کو پلائے اس کامفہوم یہ ہے کہ جب آدمی حاملہ لونڈی خریدی، یا کوئی قیدی حاملہ خاتون اس کی ملکیت میں آ جائے تو وضع حمل تک اس سے بالاتفاق جماع حرام ہو گا۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 5019 in Urdu