یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. باب تقسيم أربعة أحماس الغيمة وما يعطى الفارس والرجل، ومن يرضح له منها كالمرأة والمملوك
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
حدیث نمبر: 5044
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَقَدْ كَتَبَ إِلَيْهِ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ يَسْأَلُهُ عَنْ خَمْسِ خِصَالٍ مِنْهَا هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ مَعَهُ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ مَعَهُ فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى وَلَمْ يَكُنْ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ وَلَكِنَّهُ كَانَ يُحْذِيهِنَّ مِنَ الْغَنِيمَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، جبکہ نجدہ حروری نے ان کی طرف خط لکھا اور پانچ امور کے بارے میں پوچھا، ایک سوال یہ تھا: کیا عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتی تھیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواباً لکھا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عورتیں جہاد میں جاتی تھیں اور مریضوں کا دوا دارو کرتی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے لیے دوسرے مجاہدین کی طرح حصہ مقرر نہیں کرتے تھے، البتہ مالِ غنیمت میں سے تھوڑا بہت بطورِ عطیہ دے دیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5044]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1812، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2811 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2811»
وضاحت: فوائد: … جو خواتین، مجاہدین کی خدمت کے لیے لشکر ِ اسلام میں شرکت کرتی ہیں، مجاہد کی طرح ان کا حصہ معین نہیں ہے، امیر لشکر اپنی مرضی سے ان کو عطیہ دے سکتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5044 in Urdu