الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب النهي عن استقبال القبلة أو استدبارها وقت الحاجة
قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے یا پیٹھ کرنے سے منع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 511
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ يَسْتَهْزِئُونَ بِهِ: إِنِّي لَا أَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى الْخِرَاءَةَ، قَالَ سَلْمَانُ: أَجَلْ، أَمَرَنَا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَلَا نَسْتَدْبِرَهَا) وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا وَلَا نَكْتَفِيَ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ وَلَا عَظْمٌ
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی مشرک نے مذاق کرتے ہوئے کہا: ”میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا نبی تو تم لوگوں کو قضائے حاجت کے آداب تک کی تعلیم دیتا ہے۔“ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جی بالکل،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ”ہم (قضائے حاجت کے وقت) قبلہ کی طرف منہ نہ کریں اور نہ پیٹھ اور دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفا نہ کریں اور ان میں کوئی لید، گوبر اور ہڈی نہیں ہونی چاہیے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 511]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 262، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23703 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24103»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قضائے حاجت کے دوران قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے سے منع فرمایا ہے، اگلے باب میں اس کی مزید وضاحت آئے گی۔ احادیث ِ مبارکہ میں مذکورہ باقی آداب کی تفصیل ان سے متعلقہ ابواب میں آ رہی ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 262
Al-Fath al-Rabbani Hadith 511 in Urdu