🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

39. بَابُ النَّهْيِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ أَوِ اسْتِدْبَارِهَا وَقْتَ الْحَاجَةِ
قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے یا پیٹھ کرنے سے منع کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 506
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الزُّبَيْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا يَبُولُ أَحَدُكُمْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ) ) وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ حَدَّثَ النَّاسَ بِذَلِكَ
سیدنا عبداللہ بن حارث زبیدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں پہلا آدمی ہوں، جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’تم میں سے کوئی آدمی قبلہ رخ ہو کر پیشاب نہ کرے۔‘ اور میں پہلا آدمی ہوں، جس نے لوگوں کو یہ حدیث بیان کی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 506]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔جه حب۔ أخرجه ابن ماجه: 317، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17700 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17852»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 507
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلِ الْأَسْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَيْنِ بِبَوْلٍ أَوْ غَائِطٍ
سیدنا معقل بن ابو معقل اسدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ ہم پیشاب یا پائخانہ کرتے وقت دو قبلوں کی طرف منہ کریں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 507]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي زيد مولي بني ثعلبة۔ أخرجه ابوداود: 10، وابن ماجه: 319، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17838 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17992»
وضاحت: فوائد: … دوسرے قبلہ سے مراد بیت المقدس ہے، جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قبلۂ اول تھا۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 508
عَنْ رَافِعٍ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ مَوْلَى أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ وَهُوَ بِمِصْرَ: مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ بِهَذِهِ الْكَرَايِيسِ؟ يَعْنِي الْكُنُفَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ أَوِ الْبَوْلِ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا) )
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، جبکہ وہ مصر میں تھے: میں نہیں جانتا کہ میں ان طہارت خانوں کو کیسے استعمال کروں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’جب کوئی پیشاب یا پائخانہ کرنے کے لیے جائے تو وہ قبلہ کی طرف منہ نہ کرے اور نہ پیٹھ۔‘ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 508]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 1/ 21، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23911»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 509
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ فَلَا يَسْتَقْبِلَنَّ الْقِبْلَةَ وَلَكِنْ لِيُشَرِّقْ أَوْ لِيُغَرِّبْ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ وَجَدْنَا مَرَاحِيضَ جُعِلَتْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ) )
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی قضائے حاجت کے لیے آئے تو وہ قبلہ کی طرف رخ نہ کرے، اسے چاہیے کہ وہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کر لے۔ وہ کہتے ہیں: جب ہم شام میں آئے تو دیکھا کہ طہارت خانے قبلہ رخ بنائے گئے تھے، پس ہم پھر جاتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 509]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 144، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23921»
وضاحت: فوائد: … مشرق یا مغرب کی طرف منہ کر لے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کا تعلق ان لوگوں سے ہے، جو قبلہ سے شمال اور جنوب کی سمتوں میں بستے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کے مخاطَب اہل مدینہ تھے اور مدینہ منورہ، مکہ مکرمہ کی شمال میں واقع ہے، جو لوگ قبلہ کی مشرق اور مغرب کی جہتوں میں بستے ہیں، ان کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ نہ کریں، تاکہ کعبہ کی طرف منہ نہ ہو اور نہ پیٹھ۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 510
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ، إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا) ) وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ ( (وَلَا يَسْتَطِيبُ الرَّجُلُ بِيَمِينِهِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لیے والد کی طرح ہوں، جب تم قضائے حاجت کے لیے آؤ تو نہ قبلہ کی طرف منہ کیا کرو اور نہ پیٹھ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (استنجا میں) لید اور بوسیدہ ہڈی استعمال کرنے سے منع کیا اور نیز فرمایا: آدمی دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 510]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 8، وابن ماجه: 312، وأخرجه مختصرا مسلم: 265، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7368 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7362»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 511
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ يَسْتَهْزِئُونَ بِهِ: إِنِّي لَا أَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى الْخِرَاءَةَ، قَالَ سَلْمَانُ: أَجَلْ، أَمَرَنَا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَلَا نَسْتَدْبِرَهَا) وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا وَلَا نَكْتَفِيَ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ وَلَا عَظْمٌ
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی مشرک نے مذاق کرتے ہوئے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا نبی تو تم لوگوں کو قضائے حاجت کے آداب تک کی تعلیم دیتا ہے۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: جی بالکل، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم (قضائے حاجت کے وقت) قبلہ کی طرف منہ نہ کریں اور نہ پیٹھ اور دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفا نہ کریں اور ان میں کوئی لید، گوبر اور ہڈی نہیں ہونی چاہیے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 511]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 262، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23703 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24103»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قضائے حاجت کے دوران قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے سے منع فرمایا ہے، اگلے باب میں اس کی مزید وضاحت آئے گی۔ احادیث ِ مبارکہ میں مذکورہ باقی آداب کی تفصیل ان سے متعلقہ ابواب میں آ رہی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں