🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. باب الاسِيرِ يَدَّعِى الْإِسْلَامَ قَبْلَ الْأَسَرِ وَلَهُ شاهِدٌ وَفَضْلُ مَنْ يُسْلِمُ مِنَ الْأَسْرَى
اس قیدی کا بیان جو قید سے پہلے قبولیت ِ اسلام کا دعوی کر دے، نیز اسلام قبول کرنے والے قیدی کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5110
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ يَعْنِي وَجِيءَ بِالْأُسَارَى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَنْفَلِتَنَّ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا بِفِدَاءٍ أَوْ ضَرْبَةِ عُنُقٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا سُهَيْلُ بْنُ بَيْضَاءَ فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ الْإِسْلَامَ قَالَ فَسَكَتَ قَالَ فَمَا رَأَيْتُنِي فِي يَوْمٍ أَخْوَفَ أَنْ تَقَعَ عَلَيَّ حِجَارَةٌ مِنَ السَّمَاءِ فِي ذلِكَ الْيَوْمِ حَتَّى قَالَ إِلَّا سُهَيْلُ بْنُ بَيْضَاءَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب غزوۂ بدر والے دن قیدیوں کو لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے کوئی شخص بھاگنے نہ پائے، مگر فدیہ دے کر، یا گردن اتروا کر۔ میں (عبد اللہ) نے کہہ دیا: اے اللہ کے رسول! مگر سہیل بن بیضا، کیونکہ میں نے اس کو قبولیت ِ اسلام کی بات کرتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات سن کر خاموش ہو گئے، میں نے اس دن اپنے آپ کو دیکھا کہ مجھے اس چیز سے سب سے زیادہ ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھ پر آسمان سے پتھر گرنے لگ جائیں، (بس اسی کیفیت میں تھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ما سوائے سہیل بن بیضاء کے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5110]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو عبيدة لم يسمع من ابيه عبد الله بن مسعود، أخرجه الترمذي: 1714، 3084، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3632 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3632»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غصے کی وجہ سے خاموشی اختیار کی ہے، اس لیے وہ خوفزدہ ہو گئے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی رائے سے موافقت کی تو وہ مطمئن ہو گئے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه


Al-Fath al-Rabbani Hadith 5110 in Urdu