الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. باب الاسِيرِ يَدَّعِى الْإِسْلَامَ قَبْلَ الْأَسَرِ وَلَهُ شاهِدٌ وَفَضْلُ مَنْ يُسْلِمُ مِنَ الْأَسْرَى
اس قیدی کا بیان جو قید سے پہلے قبولیت ِ اسلام کا دعوی کر دے، نیز اسلام قبول کرنے والے قیدی کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5111
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ قَوْمٍ يُقَادُونَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي السَّلَاسِلِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے ربّ کو ان لوگوں سے تعجب ہوا ہے، جن کو زنجیروں میں جکڑ کر جنت کی طرف لایا جا رہا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5111]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3010، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8013 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8000»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو ان کی کفر کی حالت میںقید کیا جائے گا، پھر جب ان کو اسلام کی صحت و حقیقت کا پتہ چلے گا تو وہ بخوشی اسلام قبول کر لیں گے، گویا کہ قید کی مجبوری ان کے اسلام کا سبب بنے گی، لیکن ان کے حق میں اس مجبوری کا انجام جنت کی صورت میںنکلا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3010
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5111 in Urdu