یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
57. باب أن الحربي إذا أسلم قبل القدرة عليه أحرز أمواله وحكم الأرضين المعنومة
اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
حدیث نمبر: 5129
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ وَهْبٍ الْخَوْلَانِيِّ يَقُولُ لَمَّا افْتَتَحْنَا مِصْرَ بِغَيْرِ عَهْدٍ قَامَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا عَمْرُو بْنَ الْعَاصِ اقْسِمْهَا فَقَالَ عَمْرٌو لَا أَقْسِمُهَا فَقَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاللَّهِ لَتَقْسِمَنَّهَا كَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ قَالَ عَمْرٌو وَاللَّهِ لَا أَقْسِمُهَا حَتَّى أَكْتُبَ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ أَنْ أَقِرَّهَا حَتَّى يَغْزُوَ مِنْهَا حَبَلُ الْحَبَلَةِ
۔ سفیان بن وہب خولانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم نے بغیر کسی معاہدے کے مصر فتح کر لیا تو سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے عمرو بن عاص! اس کو تقسیم کرو، لیکن انھوں نے کہا: میں اس کو تقسیم نہیں کروں گا، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! تم ہر صورت میں اس کو ایسے ہی تقسیم کرو گے، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کیا تھا، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس کو اس وقت تک تقسیم نہیں کروں گا،جب تک اس کی تفصیل لکھ کر امیر المومنین کو نہیں بھیج دوں گا، پھر انھوں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور امیر المومنین نے جوابی تحریر میں یہ حکم دیا: اس کو ایسے برقرار رکھو، یہاں تک کہ حاملہ خواتین کے حمل کے بچے جہاد کریں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5129]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة المبھم الذي لم يسم، وعبد الله بن المغيرة لم يوثقه غير ابن حبان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1424 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1424»
وضاحت: فوائد: … سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ یہ مصر بزور فتح ہوا ہے، جبکہ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ یہ صلحاً فتح ہوا ہے۔ ابن اثیر نے النھایۃ: ۱/ ۳۳۴ میںکہا: حاملہ خواتین کے حمل کے بچے جہاد کریں اس سے مراد یہ ہے کہ وہاں مسلمانوں کی بہت زیادہ اولاد ہو گی۔
الحكم على الحديث: ضعیف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5129 in Urdu