الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. تحْرِيمُ الدَّمِ بالامان وصحتُهُ مِنَ الْوَاحِدِ ذَكَرًا كَانَ أَمْ أُنْثَى
امان کی وجہ سے خون کی حرمت کا ثابت ہو جانا اور ایک آدمی کی امان کا معتبر ہونا،¤خواہ وہ مرد ہو یا عورت
حدیث نمبر: 5131
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب مومنوں کے خون برابر ہیں، ادنی مؤمن بھی امان دے سکے گا، وہ سب اپنے غیروں پر ایک ہاتھ کی مانند ہیں، خبردار! مومن کو کافر کے بدلے اور ذمی کو اس کے معاہدے کے زمانے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأمان والصلح والمهادنة/حدیث: 5131]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 2035، 4530، والنسائي: 8/ 24، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 959»
وضاحت: فوائد: … معاشرے کے افراد اعلی ہوں یا ادنی، سب کے خون کی حیثیت برابر کی ہو گی، جاہلیت کے قوانین کے مطابق کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔ اگر کوئی مؤمن، خواہ وہ عورت یا مردیا اعلی یا ادنی، کسی کافر کو پناہ دے دے تو سب مسلمانوں پر لازم ہو گا کہ وہ اس کی پناہ کا احترام کریں۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5131 in Urdu