🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. تحْرِيمُ الدَّمِ بالامان وصحتُهُ مِنَ الْوَاحِدِ ذَكَرًا كَانَ أَمْ أُنْثَى
امان کی وجہ سے خون کی حرمت کا ثابت ہو جانا اور ایک آدمی کی امان کا معتبر ہونا،¤خواہ وہ مرد ہو یا عورت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5130
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ مَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا: جس نے اپنا دروازہ بند کر لیا، وہ امن والا ہو گا اور جو ابو سفیان کے گھر داخل ہو گا، اسے بھی امان حاصل ہو گی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَمَانِ وَالصُّلْحِ وَالْمُهَادَنَةِ/حدیث: 5130]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1780، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7922 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7909»
وضاحت: فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو عطا کیا گیا شرف تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5131
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب مومنوں کے خون برابر ہیں، ادنی مؤمن بھی امان دے سکے گا، وہ سب اپنے غیروں پر ایک ہاتھ کی مانند ہیں، خبردار! مومن کو کافر کے بدلے اور ذمی کو اس کے معاہدے کے زمانے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَمَانِ وَالصُّلْحِ وَالْمُهَادَنَةِ/حدیث: 5131]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 2035، 4530، والنسائي: 8/ 24، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 959»
وضاحت: فوائد: … معاشرے کے افراد اعلی ہوں یا ادنی، سب کے خون کی حیثیت برابر کی ہو گی، جاہلیت کے قوانین کے مطابق کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔ اگر کوئی مؤمن، خواہ وہ عورت یا مردیا اعلی یا ادنی، کسی کافر کو پناہ دے دے تو سب مسلمانوں پر لازم ہو گا کہ وہ اس کی پناہ کا احترام کریں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5132
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کی امان ایک ہے، ادنی مسلمان بھی وہ امان دے سکتا ہے، جس نے کسی مسلمان کی امان کو توڑ دیا، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی اور اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کی فرضی عبادت قبول کرے گا نہ نفلی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَمَانِ وَالصُّلْحِ وَالْمُهَادَنَةِ/حدیث: 5132]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1508، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9173 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9162»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5133
عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ أَنَّكُمْ إِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ وَأَعْطَيْتُمْ مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمْسَ وَسَهْمَ النَّبِيِّ وَالصَّفِيَّ فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ وَأَمَانِ رَسُولِهِ
۔ سیدنا یزید بن عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو زہیر بن اُقیش کی طرف یہ پیغام لکھا تھا: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ، یہ خط محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے بنو زہیر بن اقیش کو لکھا گیا ہے، اگر تم لوگ نماز ادا کرتے رہے، زکوۃ دیتے رہے، غنیمتوں میں سے خمس، اپنے نبی کا حصہ اور منتخب حصہ دیتے رہے تو تم اللہ کی امان اور اس کے رسول کی امان کے ساتھ با امن رہو گے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَمَانِ وَالصُّلْحِ وَالْمُهَادَنَةِ/حدیث: 5133]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2999، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20740 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21020»
وضاحت: فوائد: … اَلصَّفِیِّ (منتخب و چیدہ حصہ): مالِ غنیمت کا وہ حصہ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبل از تقسیم اپنے لیے مقرر کر لیتے تھے، پچھلے ابواب میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5134
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَجَارَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلًا وَعَلَى الْجَيْشِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لَا نُجِيرُهُ وَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ نُجِيرُهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَحَدُهُمْ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مسلمان آدمی نے کسی شخص کو پناہ دے دی، اس لشکر کے امیر سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے، سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم اس کو پناہ نہیں دیں گے، لیکن سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اس کو پناہ دیں گے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: کوئی ایک مسلمان تمام مسلمانوں پر پناہ دے سکتا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَمَانِ وَالصُّلْحِ وَالْمُهَادَنَةِ/حدیث: 5134]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه البزار: 1727، وابويعلي: 876، 877، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1695 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1695»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5135
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُجِيرُ عَلَى أُمَّتِي أَدْنَاهُمْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ادنی مسلمان بھی میری امت پر پناہ دے سکتا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَمَانِ وَالصُّلْحِ وَالْمُهَادَنَةِ/حدیث: 5135]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 1579، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8780 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8766»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5136
عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى فَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ عَنْ فَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَجَرْتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَحْمَائِي فَأَدْخَلْتُهُمَا بَيْتًا وَأَغْلَقْتُ عَلَيْهِمَا بَابًا فَجَاءَ ابْنُ أُمِّي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَتَفَلَّتَ عَلَيْهِمَا بِالسَّيْفِ قَالَتْ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَجِدْهُ وَوَجَدْتُ فَاطِمَةَ فَكَانَتْ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ زَوْجِهَا قَالَتْ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ أَثَرُ الْغُبَارِ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ يَا أُمَّ هَانِئٍ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ
۔ سیدہ ام ہانی فاختہ بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: فتح مکہ والے دن میں نے اپنے دو سسرالی رشتہ داروں کو پناہ دی اور ان کو گھر میں داخل کر کے دروازہ بند کر دیا، میری اپنی ماں کا بیٹا سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ آئے اور ان پر تلوار سونت لی، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے نہ مل سکے، البتہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں، لیکن وہ میرے معاملے میں مجھ پر اپنے خاوند سے بھی زیادہ سختی کرنے والی تھیں، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گردو غبار کا اثر تھا، جب میں نے اپنی بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام ہانی! جن کو تو نے پناہ دی، ہم نے بھی ان کو پناہ دی اور جن کو تو نے امن دیا، ہم نے بھی ان کو امن دے دیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَمَانِ وَالصُّلْحِ وَالْمُهَادَنَةِ/حدیث: 5136]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 280، 357، 3171، 6158، ومسلم: 336، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26906 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27445»
وضاحت: فوائد: … اس باب میں جہاں معاہدے کی پاسداری کو ضروری قرار دیا، وہاں مسلمان کی بحیثیت ِ مسلمان عظمت کا اندازہ لگائیں کہ اگر کوئی ادنی مسلمان کسی کافر کو پناہ دے دیتا ہے تو پوری امت پر فرض ہو گا کہ وہ اس امان کا پاس و لحاظ رکھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں