الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب فضل العتق والحت عليه
آزاد کرنے اور اس پر برانگیختہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5207
عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السَّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ عِدْلُ مُحَرَّرٍ وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وَفَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهِ مِنَ النَّارِ وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وَفَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهَا مِنَ النَّارِ
۔ سیدنا ابو نجیح سلمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک تیر پھینکا، اس کو آزاد شدہ غلام کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا، جس کے اللہ کے راستے میں بال سفید ہو گئے تو یہ چیز اس کے لیے قیامت والے دن نور ہو گی، جس آدمی نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا، تو اللہ تعالیٰ آزاد ہونے والی کی ہر ہڈی کے عوض آزاد کنندہ کی ہر ہڈی کو آگ سے آزاد کر دے گا، اسی طرح جس عورت نے مسلمان عورت کو آزاد کیا، تو اللہ تعالیٰ آزاد شدہ کی ہر ہڈی کے عوض آزاد کنندہ خاتون کی ہر ہڈی کو آگ سے آزاد کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5207]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 3965، والترمذي: 1638، والنسائي: 6/ 26، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17147»
وضاحت: فوائد: … فی سبیل اللہ (اللہ کے راستے میں): عرف کا لحاظ رکھیں تو اس کا معنی جہاد ہو گا، یعنی جس نے سیاہ بالوں کی عمر سے جہاد شروع کیا اور بالوں کے سفید ہو جانے تک یہ عمل جاری رکھا، لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس سے مراد ہر نیک کام ہو، کیونکہ بعض احادیث میں مومن کے سفید بالوں کو اس کے لیے نور قرار دیا گیا ہ ے، جب کہ جہاد کی فضیلت تو سفید بالوں کی محتاج نہیں، وہ تو اس کے علاوہ بھی افضل ہے۔ واللہ اعلم۔وہ بال ہی نور بن جائیں گے یا ان کی بنا پر نور حاصل ہو گا۔
الحكم على الحديث: صحیح