الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب ما جاء فى الإحسان إلى الموالي والوصية بهم والنهي عن ضربهم
غلاموں کے ساتھ احسان کرنے اور ان کے حق میں وصیت کرنے کا¤اور ان کو مارنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5223
عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ أَكْثَرُ الْأُمَمِ مَمْلُوكِينَ وَأَيْتَامًا قَالَ بَلَى فَأَكْرِمُوهُمْ كَرَامَةَ أَوْلَادِكُمْ وَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ قَالُوا فَمَا يَنْفَعُنَا فِي الدُّنْيَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَرَسٌ صَالِحٌ تَرْتَبِطُهُ تُقَاتِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَمْلُوكٌ يَكْفِيكَ فَإِذَا صَلَّى فَهُوَ أَخُوكَ
۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غلاموں سے برا سلوک کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے ہمیں یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ امت سب سے زیادہ غلاموں اور یتیموں والی ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، لیکن اپنی اولاد کی طرح ان کی عزت کرو اور جو کچھ خود کھاتے ہو، اسی میں سے ان کو کھلاؤ۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کون سی چیز ہمیں دنیا میں فائدہ دے سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک عمدہ گھوڑا ہو، جس کو تو نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے باندھا ہوا ہو اور ایک غلام ہو، جو تیری ضروریات کو پورا کرے، اور اگر وہ نماز پڑھنے والا ہو، تو پھر تو تیرا بھائی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5223]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف فرقد السبخي، أخرجه ابن ماجه: 3691، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 75 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 75»
وضاحت: فوائد: … یعنی نماز کی وجہ سے اس کی عزت بھی کرنا پڑے گی، کیونکہ اب وہ صرف بندے کا غلام نہیں رہا، بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے والا بن گیا ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5223 in Urdu