یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب ما جاء فى الإحسان إلى الموالي والوصية بهم والنهي عن ضربهم
غلاموں کے ساتھ احسان کرنے اور ان کے حق میں وصیت کرنے کا¤اور ان کو مارنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5233
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِي وَأَمَتِي كُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ وَكُلُّ نِسَائِكُمْ إِمَاءُ اللَّهِ وَلَكِنْ لِيَقُلْ غُلَامِي وَجَارِيَتِي وَفَتَايَ وَفَتَاتِي
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی مالک یوں نہ کہے: عَبْدِیْ وَاَمَتِیْ، کیونکہ تم سارے اللہ تعالیٰ کے بندے ہو اور تمہاری تمام عورتیں اللہ تعالیٰ کی لونڈیاں ہیں۔ مالک کو یوں کہنا چاہیے: میرا غلام، میری لونڈی، میرا جوان، میری جوان۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5233]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9965»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ ہمارا ربّ ہے اور ہم اس کے بندے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان احادیث میں یہ بتانا چاہا ہے کہ یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہی خاص رہنے دیے جائیں، اس لیے حکم دیا کہ کوئی غلام اپنے مالک کو رَبِّی نہ کہے اور کوئی مالک اپنے غلام اور لونڈی کو عَبْدِیْ اور أَمَتِیْ نہ کہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5233 in Urdu