الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ حُكْمِ مَنْ أَعْتَقَ شِرَكًا لَهُ فِي عَبْدِ أَوْ كَانَ يَمْلِكُ عَبْدًا فَاعْتَقَ بَعْضَهُ
کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دینے والے یا اپنے غلام کا بعض حصہ¤آزاد کر دینے والے شخص کا بیان
حدیث نمبر: 5269
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَخَلَاصُهُ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو سارے غلام کی آزادی اسی کے مال سے ہو گی، بشرطیکہ اس کے پاس مال ہو، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام کو کمائی کرنے کا مکلف ٹھہرایا جائے گا، لیکن اس پر مشقت نہیں ڈالی جائے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5269]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 3939، والترمذي باثر الحديث: 1348، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10107 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10111»
وضاحت: فوائد: … تو غلام کو کمائی کرنے کا مکلف ٹھہرایا جائے گا، …۔ اس کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں: (۱) غلام کو یہ موقع دیا جائے گاکہ وہ کمائی کرے، تاکہ دوسرے ساجھی کے حصے کی قیمت بنا لے اور پھر اس کو دے کر آزاد ہو جائے۔ (۲) غلام کا جتنا حصہ آزاد نہیں ہوا، وہ اس حصے کے بقدر دوسرے آقا کی خدمت کرے گا، مثلا اگر وہ آدھاآزاد کر دیا گیا ہے تو وہ دوسرے مالک کی نصف دن تک خدمت کرے گا، باقی نصف دن وہ آزاد آدمی کی حیثیت سے گزارے گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5269 in Urdu