الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب ما جاء فى الخلف بالكعبة
کعبہ کی قسم اٹھانے کا بیان
حدیث نمبر: 5300
عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَجِئْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَتَرَكْتُ عِنْدَهُ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ فَجَاءَ الْكِنْدِيُّ مُرَوَّعًا فَقُلْتُ مَا وَرَاءَكَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ آنِفًا فَقَالَ أَحْلِفُ بِالْكَعْبَةِ فَقَالَ احْلِفْ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ فَإِنَّ عُمَرَ كَانَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَحْلِفْ بِأَبِيكَ فَإِنَّهُ مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَ
۔ سعد بن عبیدہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، پھر میں ایک کندی باشندے کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چھوڑ کر سعید بن مسیب کے پاس چلا گیا، وہ کندی آدمی گھبرا کر وہاں پہنچ گیا، میں نے اس سے کہا: تیرے پیچھے کون لگا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: ابھی ایک آدمی، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں کعبہ کی قسم اٹھاتا ہوں، انھوں نے کہا: تو کعبہ کے ربّ کی قسم اٹھا، کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے باپ کی قسم اٹھاتے تھے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: اپنے باپ کی قسم مت اٹھاؤ، کیونکہ جس نے غیر اللہ کی قسم اٹھائی، اس نے شرک کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5300]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الكندي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6073 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6073»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة الكندي
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5300 in Urdu