الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بابُ مَا جَاءَ فِي الْخَلْفِ بِالْكَعْبَةِ
کعبہ کی قسم اٹھانے کا بیان
حدیث نمبر: 5301
عَنْ قُتَيْلَةَ بِنْتِ صَيْفِيٍّ الْجُهَنِيَّةِ قَالَتْ أَتَى حَبْرٌ مِنَ الْأَحْبَارِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ تُشْرِكُونَ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا ذَاكَ قَالَ تَقُولُونَ إِذَا حَلَفْتُمْ وَالْكَعْبَةِ قَالَتْ فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ قَدْ قَالَ فَمَنْ حَلَفَ فَلْيَحْلِفْ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ يَا مُحَمَّدُ نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَجْعَلُونَ لِلَّهِ نِدًّا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا ذَاكَ قَالَ تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ قَالَ فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ قَدْ قَالَ فَمَنْ قَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ فَلْيَفْصِلْ بَيْنَهُمَا ثُمَّ شِئْتَ
۔ قُتیلہ بنت صیفی جہنیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عالم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد! تم بہترین لوگ ہو، لیکن کاش کہ تم شرک نہ کرتے ہوتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! (بڑا تعجب ہے) وہ کیسے؟ اس نے کہا: جب تم قسم اٹھاتے ہو تو کہتے ہو: کعبہ کی قسم۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا: اس آدمی نے ایک بات کی ہے، اب جو آدمی بھی قسم اٹھائے وہ کعبہ کے ربّ کی قسم اٹھائے (نہ کہ کعبہ کی)۔ اس نے پھر کہا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! تم بڑے اچھے لوگ ہو، لیکن کاش کہ تم اللہ کیلئے اس کا ہمسر نہ ٹھہراتے ہوتے! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! وہ کیسے؟ اس نے کہا: تم کہتے ہو کہ جو اللہ چاہے اور تم چاہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: اس آدمی نے ایک بات کی ہے، اگر کوئی آدمی مَا شَائَ اللّٰہُ کہے تو وہ فاصلہ کرے اور ثُمَّ شِئْتَ کہے (یعنی: جو اللہ چاہے اور پھر تم چاہو)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5301]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 7/6، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27633»
وضاحت: فوائد: … کعبہ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے، اس لیے اس کی قسم بھی ممنوع ہے۔ امورِ کائنات میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی مشیت کارفرما ہوتی ہے، اس میں کوئی بھی اس کا شریک اور ساجھی نہیں ہے، ہر مخلوق کی چاہت اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے، یعنی پہلے اللہ تعالیٰ کسی امر کا وقوع پذیر ہونا چاہے گا تو تب مخلوق اس کو چاہ سکے گی۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5301 in Urdu