الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب من نذر ندرا مباحا أو غير مشروع أو لا يطيقه وكفاره ذلك
مباح یا غیر مشروع یا ایسی نذر ماننے والے کا بیان، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کا کفارہ
حدیث نمبر: 5369
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكِ شَيْئًا لِتَخْرُجْ رَاكِبَةً وَلْتُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تیری بہن کی بدحالی کے ساتھ کوئی معاملہ سر انجام نہیں دینا، اس کو چاہیے کہ وہ سوار ہو کر جائے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5369]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 3295، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2828 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2828»
وضاحت: فوائد: … نذر کو قسم کہنے کی وجہ یہ ہے کہ نذر ماننے والا اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے اوپر ایک چیز کو لازم کر لیتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے والا کسی چیز کواپنے لیے لازم کر لیتا ہے۔
الحكم على الحديث: حديث حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5369 in Urdu