الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب من نذر ندرا مباحا أو غير مشروع أو لا يطيقه وكفاره ذلك
مباح یا غیر مشروع یا ایسی نذر ماننے والے کا بیان، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کا کفارہ
حدیث نمبر: 5370
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أُخْتَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ وَشَكَا إِلَيْهِ ضَعْفَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ نَذْرِ أُخْتِكَ فَلْتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ اس کی بہن بیت اللہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر مانی ہے، ساتھ ہی انھوں نے اس کی کمزور کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تیری بہن کی اس نذر سے غنی ہے، اس لیے اس کو چاہیے کہ وہ سوار ہو جائے اور ایک اونٹ بطورِ دم پیش کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5370]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1645، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2134 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2134»
وضاحت: فوائد: … ابو داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَأَمَرَھَا النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنْ تَرْکَبَ وَتُھْدِیَ ھَدْیًا۔ … پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کوحکم دیا کہ وہ سوار ہو جائے اور ایک قربانی کرے۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ اونٹ، گائے اور بکری میں کسی ایک کی قربانی کفایت کرے گی، کیونکہ ہدی کا اطلاق ان سب پر ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1645
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5370 in Urdu