یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب فى الاستنجاء بالماء والنهي عن مس الذكر باليمين والاستنجاء بها
پانی سے استنجا کرنے کا بیان اور دائیں ہاتھ سے عضوِ خاص کو چھونے اور اس سے استنجاء کرنے سے نہی کا بیان
حدیث نمبر: 538
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا يَعْنِي قُبَاءَ، قَالَ: ( (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ فِي الطُّهُورِ خَيْرًا، أَفَلَا تُخْبِرُونِي؟ قَالَ: يَعْنِي قَوْلَهُ: {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ} قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا نَجِدُهُ مَكْتُوبًا عَلَيْنَا فِي التَّوْرَاةِ الْإِسْتِنْجَاءَ بِالْمَاءِ) )
سیدنا محمد بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اہل قبا کے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے طہارت کے معاملے میں تم لوگوں کی تعریف کی ہے، کیا تم مجھے بتلاؤ گے نہیں (کہ تم کون سا عمل کرتے ہو)؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تھا: «فِيْہَا رِجَالٌ يُحِبُّوْنَ أَنْ يَتَطَهَّرُوْا ۚ وَاللّٰہُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ» انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم تورات میں پانی کے ساتھ استنجا کرنے کا ذکر پاتے ہیں (اور پھر اسی طرح عمل کرتے ہیں)۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 538]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/153، والبخاري في التاريخ الكبير: 1/ 18، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23833 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24334»
الحكم على الحديث: ضعیف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 538 in Urdu