🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

45. بَابٌ فِي الِاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ وَالنَّهْيِ عَنْ مَسِّ الذَّكَرِ بِالْيَمِينِ وَالِاسْتِنْجَاءِ بِهَا
پانی سے استنجا کرنے کا بیان اور دائیں ہاتھ سے عضوِ خاص کو چھونے اور اس سے استنجاء کرنے سے نہی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 531
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ أَوْ يَسْتَطِيبَ بِيَمِينِهِ
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی برتن میں سانس لے یا دائیں ہاتھ سے عضو تناسل کو چھوئے یا دائیں ہاتھ سے استنجا کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 531]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 153، ومسلم: 267، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22522 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22889»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کی فقہ یہ ہے کہ حتی الوسع ہر صورت میں دائیں ہاتھ کو شرمگاہ پر لگنے سے بچایا جائے، کیونکہ قضائے حاجت اور استنجا کے دوران دائیں ہاتھ کی ضرورت پڑ سکتی تھی، لیکن اس کے باوجود ایسا کرنے سے منع کر دیا گیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 532
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْيُسْرَى لِخَلَائِهِ وَمَا كَانَ مِنْ أَذَى وَكَانَتِ الْيُمْنَى لِوُضُوئِهِ وَلِمَطْعَمِهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بایاں ہاتھ استنجا اور دوسری مکروہ چیزوں کے لیے تھا اور دایاں ہاتھ وضو کے لیے اور کھانا کھانے کے لیے تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 532]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بطرقه وشواهده۔ أخرجه ابوداود: 33، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26285 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26815»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 533
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا مَسَسْتُ فَرْجِي بِيَمِينِي مُنْذُ بَايَعْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے جب سے دائیں ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی، اس وقت سے اس کو اپنی شرمگاہ پر نہیں لگایا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 533]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 18/ 192، والحاكم: 3/ 472، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19943 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20185»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 534
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ الْخَلَاءَ فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلَامٌ نَحْوِي إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ وَعَنَزَةً فَيَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو میں اور میری طرح کا ایک لڑکا پانی کا برتن اور برچھی اٹھاتے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے استنجا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 534]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 152، ومسلم: 271، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12754 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12784»
وضاحت: فوائد: … چمڑے کے چھوٹے سے برتن کو اِدَاوَۃ کہتے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 535
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبَرَّزَ لِحَاجَتِهِ أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَيَغْسِلُ بِهِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تھے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی لاتا تھا، اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم استنجا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 535]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 217، ومسلم: 271، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12100 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12124»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 536
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْخَلَاءَ فَأَتَيْتُهُ بِتَوْرٍ فِيهِ مَاءٌ فَاسْتَنْجَى، ثُمَّ مَسَحَ بِيَدِهِ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ غَسَلَهَا، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِتَوْرٍ آخَرَ فَتَوَضَّأَ بِهِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں داخل ہوئے تو میں ایک برتن لایا، اس میں پانی تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے استنجا کیا، اس کے بعد اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑا اور پھر دھو دیا، پھر میں ایک اور برتن لے کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو کیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 536]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، شريك بن عبد الله النخعي سييء الحفظ۔أخرجه ابوداود: 45، وابن ماجه: 358، والنسائي: 1/ 45، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8104 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8090»
وضاحت: فوائد: … تَوْر: یہ تانبے یا پتھر سے بنا ہوا برتن ہوتا ہے، اس کو کھانے پینے اور وضو کے لیے بنایا جاتا ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 537
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ دَعَا بِمَاءٍ فَاسْتَنْجَى ثُمَّ مَسَحَ بِيَدِهِ عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ تَوَضَّأَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو پانی طلب کرتے اور اس کے ساتھ استنجا کرتے، پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑتے اور پھر وضو کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 537]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9861»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 538
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا يَعْنِي قُبَاءَ، قَالَ: ( (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ فِي الطُّهُورِ خَيْرًا، أَفَلَا تُخْبِرُونِي؟ قَالَ: يَعْنِي قَوْلَهُ: {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ} قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا نَجِدُهُ مَكْتُوبًا عَلَيْنَا فِي التَّوْرَاةِ الْإِسْتِنْجَاءَ بِالْمَاءِ) )
سیدنا محمد بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اہل قبا کے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے طہارت کے معاملے میں تم لوگوں کی تعریف کی ہے، کیا تم مجھے بتلاؤ گے نہیں (کہ تم کون سا عمل کرتے ہو)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تھا: «فِيْہَا رِجَالٌ يُحِبُّوْنَ أَنْ يَتَطَهَّرُوْا ۚ وَاللّٰہُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ» انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تورات میں پانی کے ساتھ استنجا کرنے کا ذکر پاتے ہیں (اور پھر اسی طرح عمل کرتے ہیں)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 538]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/153، والبخاري في التاريخ الكبير: 1/ 18، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23833 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24334»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 539
عَنْ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ، فَقَالَ: ( (إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمُ الثَّنَاءَ فِي الطُّهُورِ فِي قِصَّةِ مَسْجِدِكُمْ، فَمَا هَذَا الطُّهُورُ الَّذِي تَطَهَّرُونَ بِهِ؟) ) قَالُوا: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا نَعْلَمُ شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لَنَا جِيرَانٌ مِنَ الْيَهُودِ فَكَانُوا يَغْسِلُونَ أَدْبَارَهُمْ مِنَ الْغَائِطِ فَغَسَلْنَا كَمَا غَسَلُوا
سیدنا عویم بن ساعدہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس مسجد قبا میں تشریف لے گئے اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہاری مسجد کا ذکر کر کے طہارت کے معاملے میں تمہاری اچھی تعریف کی ہے، تو یہ کون سی پاکیزگی ہے، جو تم اختیار کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! اس معاملے میں کوئی چیز ہمارے علم میں تو نہیں ہے، البتہ یہ بات ضرور ہے کہ یہودی لوگ ہمارے پڑوسی تھے اور وہ پائخانہ کر کے اپنی پچھلی طرف کو دھوتے تھے، پس ہم نے بھی ان کی طرح اس حصے کو دھونا شروع کر دیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 539]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 348، وابن خزيمة: 83، والحاكم: 1/ 155، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15485 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15566»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ایوب انصاری، سیدنا جابر بن عبد اللہ اور سیدنا انس بن مالک سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب یہ آیت {فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ أَنْ یَّتَطَہَّرُوْا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیْنَ} نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَا مَعْشَرَ الْاَنْصَارِ! اِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَثْنٰی عَلَیْکُمْ فِیْ الطُّھُوْرِ، فَمَا طُھُوْرُکُمْ؟)) قَالُوْا: نَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاۃِ وَنَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ وَنَسْتَنْجِیْ بِالْمَائِ، قَالَ: ((فَھُوَ ذَاکَ فَعَلَیْکُمُوْہُ۔)) … اے انصاریوں کی جماعت! بیشک اللہ تعالیٰ نے طہارت کے سلسلے میں تمہاری تعریف کی ہے، پس تمہاری طہارت کیا ہے؟ انھوں نے کہا: ہم نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، جنابت سے غسل کرتے ہیں اور پانی سے استنجا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس وہ یہی (مؤخر الذکر) چیز ہے، تم اس کو لازم پکڑو۔ (ابن ماجہ: ۳۵۵)
سیدنا ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نَزَلَتْ فِیْ اَھْلِ قُبَائَ {فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ أَنْ یَّتَطَہَّرُوْا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیْنَ})) … اہل قبا کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: (اس میں ایسے لوگ ہیں، جو پاکیزگی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پاکیزہ رہنے والوں سے محبت کرتا ہے)۔ دراصل وہ لوگ پانی سے استنجا کرتے تھے، پس ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن ماجہ:۳۵۷، ترمذی: ۳۱۰۰)
سلیم الفطرت لوگ جانتے ہیں کہ پانی اور پتھروں سے استنجاکرنے میں کیا فرق ہے، بہرحال دونوں طریقے مسنون ہیں اور پانی سے استنجا کرنا افضل ہے۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ سہولت عام کر دی ہے، لوگوں کو علم ہونا چاہیے کہ وہ افضل طریقہ استعمال کر رہے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 540
عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ نِسْوَةً مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ دَخَلْنَ عَلَيْهَا فَأَمَرَتْهُنَّ أَنْ يَسْتَنْجِيْنَ بِالْمَاءِ وَقَالَتْ: مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ بِذَلِكَ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ، وَهُوَ شِفَاءٌ مِنَ الْبَاسُورِ، تَقُولُهُ عَائِشَةُ أَوْ أَبُو عَمَّارٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اہل بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس آئیں، سیدہ نے ان کو حکم دیا کہ وہ خود بھی پانی کے ساتھ استنجا کیا کریں اور اپنے خاوندوں کو بھی ایسا کرنے کا حکم دیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح استنجا کرتے تھے اور یہ بواسیر سے شفا بھی ہے۔ یہ آخری جملہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے از خود کہا یا ابو عمار رحمہ اللہ نے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 540]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: وھو شفاء من الباسور ان كان من قول عائشة، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، شداد ابو عمار لم يدرك عائشة ؓ۔ أخرجه الترمذي: 19، والنسائي: 1/ 42، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24623 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25130»
وضاحت: فوائد: … سنن بیہقی کی روایت میں یہ وضاحت ہے کہ بواسیر سے شفا بھی ہے والا جملہ سیدہ عائشہؓ نے کہا تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں