الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب فى الاستنجاء بالماء والنهي عن مس الذكر باليمين والاستنجاء بها
پانی سے استنجا کرنے کا بیان اور دائیں ہاتھ سے عضوِ خاص کو چھونے اور اس سے استنجاء کرنے سے نہی کا بیان
حدیث نمبر: 540
عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ نِسْوَةً مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ دَخَلْنَ عَلَيْهَا فَأَمَرَتْهُنَّ أَنْ يَسْتَنْجِيْنَ بِالْمَاءِ وَقَالَتْ: مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ بِذَلِكَ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ، وَهُوَ شِفَاءٌ مِنَ الْبَاسُورِ، تَقُولُهُ عَائِشَةُ أَوْ أَبُو عَمَّارٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اہل بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس آئیں، سیدہ نے ان کو حکم دیا کہ وہ خود بھی پانی کے ساتھ استنجا کیا کریں اور اپنے خاوندوں کو بھی ایسا کرنے کا حکم دیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح استنجا کرتے تھے اور یہ بواسیر سے شفا بھی ہے۔ یہ آخری جملہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے از خود کہا یا ابو عمار رحمہ اللہ نے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 540]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: وھو شفاء من الباسور ان كان من قول عائشة، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، شداد ابو عمار لم يدرك عائشة ؓ۔ أخرجه الترمذي: 19، والنسائي: 1/ 42، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24623 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25130»
وضاحت: فوائد: … سنن بیہقی کی روایت میں یہ وضاحت ہے کہ بواسیر سے شفا بھی ہے والا جملہ سیدہ عائشہؓ نے کہا تھا۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح دون قوله: وھو شفاء من الباسور ان كان من قول عائشة
Al-Fath al-Rabbani Hadith 540 in Urdu