الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ مَا يُقَالُ فِي الصَّبَاحِ وَالْمَسَاءِ وَعِندَ إرَادَةِ النَّوْمِ
صبح، شام اور نیند کے وقت کی دعاؤں کا بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: Q5486]
حدیث نمبر: 5486
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُولَ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ وَإِذَا أَخَذْتُ مَضْجَعِي مِنَ اللَّيْلِ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكُهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ
۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں صبح کے وقت، شام کے وقت اور رات کو بستر پر سوتے وقت یہ کلمات ادا کروں: اَللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ … … وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِی سُوئً أَوْ أَجُرَّہُ إِلٰی مُسْلِمٍ۔(اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! غیب اور حاضر کو جاننے والے! تو ہر چیز کا پروردگار اور مالک ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں‘تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں، میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے نفس کے شر سے‘ شیطان کے شر اور اس کے شرک سے‘اس بات سے کہ میں اپنے نفس پر برائی کا ارتکاب کروں یا کسی مسلمان سے برائی کروں)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5486]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 5067، والترمذي: 3392، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 81 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 81»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ غیب اور حاضر کو جاننے والا ہے، اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو لوگوں کے لیے مخفی یا ظاہر ہیں، اللہ تعالیٰ کے لیے کائنات کی کوئی چیز غائب نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5486 in Urdu