🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. بَابُ مَا يُقَالُ فِي الصَّبَاحِ وَالْمَسَاءِ وَعِندَ إرَادَةِ النَّوْمِ
صبح، شام اور نیند کے وقت کی دعاؤں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5486
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُولَ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ وَإِذَا أَخَذْتُ مَضْجَعِي مِنَ اللَّيْلِ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكُهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ
۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں صبح کے وقت، شام کے وقت اور رات کو بستر پر سوتے وقت یہ کلمات ادا کروں: اَللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ … … وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِی سُوئً أَوْ أَجُرَّہُ إِلٰی مُسْلِمٍ۔(اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! غیب اور حاضر کو جاننے والے! تو ہر چیز کا پروردگار اور مالک ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں‘تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں، میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے نفس کے شر سے‘ شیطان کے شر اور اس کے شرک سے‘اس بات سے کہ میں اپنے نفس پر برائی کا ارتکاب کروں یا کسی مسلمان سے برائی کروں)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5486]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 5067، والترمذي: 3392، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 81 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 81»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ غیب اور حاضر کو جاننے والا ہے، اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو لوگوں کے لیے مخفی یا ظاہر ہیں، اللہ تعالیٰ کے لیے کائنات کی کوئی چیز غائب نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5487
عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ قَالَ أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقُلْتُ لَهُ حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَلْقَى بَيْنَ يَدَيَّ صَحِيفَةً فَقَالَ هَذَا مَا كَتَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرْتُ فِيهَا فَإِذَا فِيهَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي مَا أَقُولُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا بَكْرٍ قُلْ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ
۔ ابو راشد حبرانی کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: جو حدیث تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو، وہ مجھے بیان کرو، انھوں نے میرے سامنے ایک صحیفہ رکھا اور کہا: یہ وہ چیز ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے لکھوائی تھی، جب میں نے اس میں دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایسی دعا کی تعلیم دیں، جو میں صبح اور شام کو پڑھوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! یہ دعا پڑھا کرو: اَللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، رَبَّ کُلِّ شَیْئٍ وَمَلِیکَہُ، أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِی وَمِنْ شَرِّ الشَّیْطَانِ وَشِرْکِہِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِی سُوئً أَوْ أَجُرَّہُ إِلٰی مُسْلِمٍ۔ (اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! غیب اور حاضر کو جاننے والے! ہر چیز کے پروردگار اور اس کے مالک! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے نفس کے شر سے‘ شیطان کے شر اور اس کے شرک سے‘ اس بات سے کہ میں اپنے نفس پر برائی کا ارتکاب کروں یا کسی مسلمان سے برائی کروں)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5487]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 3529، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6851 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6851»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5488
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ كُنَّ كَعَدْلِ أَرْبَعِ رِقَابٍ وَكُتِبَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَمُحِيَ عَنْهُ بِهِنَّ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَرُفِعَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ دَرَجَاتٍ وَكُنَّ لَهُ حَرَسًا مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ وَإِذَا قَالَهَا بَعْدَ الْمَغْرِبِ فَمِثْلُ ذَلِكَ
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نمازِ فجر ادا کر کے یہ دعا دس بار پڑھی: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔ تواس کو چارگردنیں آزاد کرنے کے بقدر ثواب ملے گا، اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اس کی دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کے دس درجے بلند کر دیئے جائیں گے، شام تک یہ کلمات اس کے لیے شیطان سے محافظ ثابت ہوں گے، اگر وہ مغرب کے بعد دس بار کہے گا تو پھر اسی طرح کی فضیلت حاصل ہو گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5488]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 4092، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23518 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23915»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5489
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ نَزَلَ عَلَيَّ فَقَالَ لِي يَا أَبَا أَيُّوبَ أَلَا أُعَلِّمُكَ قَالَ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا مِنْ عَبْدٍ يَقُولُ حِينَ يُصْبِحُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ وَإِلَّا كُنَّ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ مُحَرَّرِينَ وَإِلَّا كَانَ فِي جُنَّةٍ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ وَلَا قَالَهَا حِينَ يُمْسِي إِلَّا كَذَلِكَ قَالَ فَقُلْتُ لِأَبِي مُحَمَّدٍ أَنْتَ سَمِعْتَهَا مِنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ وَاللَّهِ لَسَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي أَيُّوبَ يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ میرے پاس ٹھہرے اور مجھ سے فرمایا: اے ابو ایوب! کیا میں تجھے کسی چیز کی تعلیم دوں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی صبح کے وقت یہ کلمات ادا کرتا ہے: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس نیکیاں لکھتا ہے، اس کی دس برائیاں معاف کر دیتا ہے، اس کو اللہ تعالیٰ کے ہاں دس گردنیں آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے اور وہ شام تک شیطان سے بچاؤ میں رہتا ہے، اور جو آدمی شام کو یہ کلمات ادا کرے گا، اس کو بھی یہی فضیلت حاصل ہو گی۔ ابو الورد کہتے ہیں: میں نے ابو محمد سے کہا: تم نے یہ حدیث سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کر رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5489]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني: 4089، والنسائي في عمل اليوم والليلة: 24، وعلقه البخاري باثر الحديث: 6404، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23516 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23913»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5490
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ قَالَهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَحَطَّ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا عَشْرَ سَيِّئَاتٍ وَرَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ وَكُنَّ لَهُ كَعَشْرِ رِقَابٍ وَكُنَّ لَهُ مَسْلَحَةً مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ إِلَى آخِرِهِ وَلَمْ يَعْمَلْ يَوْمَئِذٍ عَمَلًا يَقْهَرُهُنَّ فَإِنْ قَالَ حِينَ يُمْسِي فَمِثْلُ ذَلِكَ
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت دس بار یہ کلمات ادا کیے: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِی وَیُمِیتُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر بار ادائیگی کے عوض دس نیکیاں لکھے گا، اس کی دس برائیاں معاف کرے گا، اس کے دس درجے بلند کرے گا، اس کو دس گردنیں آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا اور یہ کلمات دن کے شروع سے آخر تک اس کی حفاظت کرنے کے لیے اسلحہ اور حفاظت ثابت ہوں گے اور اس دن کسی شخص کا عمل اس کے اس عمل پر غالب نہیں آ سکے گا، اگر وہ شام کو یہ عمل کرے گا تو اس کو یہی فضیلت حاصل ہو گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5490]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 3883، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23568 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23964»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5491
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ مَنْ قَالَهَا عَشْرَ مَرَّاتٍ حِينَ يُصْبِحُ كُتِبَ لَهُ بِهَا مِائَةُ حَسَنَةٍ وَمُحِيَ عَنْهُ بِهَا مِائَةُ سَيِّئَةٍ وَكَانَتْ لَهُ عَدْلَ رَقَبَةٍ وَحُفِظَ بِهَا يَوْمَئِذٍ حَتَّى يُمْسِيَ وَمَنْ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ حِينَ يُمْسِي كَانَ لَهُ مِثْلُ ذَلِكَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت دس بار یہ کلمہ کہا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی، اس کی سو برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کو ایک گردن آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور شام تک اس کی حفاظت کی جائے گی، جس نے شام کو یہ کلمات ادا کیے، اس کو بھی یہی فضیلت حاصل ہو گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5491]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8704»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5492
عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ حِينَ أَصْبَحَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ كَانَ لَهُ كَعَدْلِ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَكُتِبَ لَهُ بِهَا عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَرُفِعَتْ لَهُ بِهَا عَشْرُ دَرَجَاتٍ وَكَانَ فِي حِرْزٍ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ وَإِذَا أَمْسَى مِثْلُ ذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ قَالَ فَرَأَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا عَيَّاشٍ يَرْوِي عَنْكَ كَذَا وَكَذَا قَالَ صَدَقَ أَبُو عَيَّاشٍ
۔ سیدنا ابو عیاش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت یہ کلمات کہے: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، اس کو اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا، اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اس کی دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کے دس درجے بلند کر دیئے جائیں گے اور وہ شام تک شیطان سے حفاظت میں رہے گا، اگر اس نے شام کو یہی عمل کیا تو اس کو یہی فضیلت حاصل ہو گی۔ ایک آدمی نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو عیاش آپ سے اس قسم کی حدیث بیان کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو عیاش نے سچ کہا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5492]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح علي خلاف في صحابيه، أخرجه أبوداود: 5077، وابن ماجه: 3867، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16583 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16699»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح علي خلاف في صحابيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5493
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ إِذَا أَمْسَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ تَضُرَّهُ حُمَةٌ تِلْكَ اللَّيْلَةَ قَالَ فَكَانَ أَهْلُنَا قَدْ تَعَلَّمُوهَا فَكَانُوا يَقُولُونَهَا فَلُدِغَتْ جَارِيَةٌ مِنْهُمْ فَلَمْ تَجِدْ لَهَا وَجَعًا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی شام کو یہ دعا تین بار پڑھے گا: أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔ (میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں، اس کی مخلوق کی شرّ سے) تو اس رات کو کوئی زہر اس کونقصان نہیں دے گا۔ راوی کہتے ہیں: ہمارے اہل و عیال نے اس دعا کی تعلیم حاصل کی اور پھر وہ اس کو پڑھا کرتے تھے، ایک دفعہ ایک بچی کو کسی چیز نے ڈس دیا، لیکن اس کو اس کی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5493]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2709، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7885»
وضاحت: فوائد: … کوئی زہر نقصان نہیں دے گا، اس کی دو صورتیں ہیں: (۱) کوئی زہریلا جانور اس کو ڈس نہیں سکے گا، (۲) ڈس تو سکتا ہے، لیکن اس کی تکلیف نہیں ہو گی، اس حدیث کے آخر سے دوسرا معنی ثابت ہو رہا ہے کہ بچی کوڈنگ تو لگا تھا، لیکن اس کو تکلیف نہیں ہوئی تھی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2709
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5494
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ قَالَ لَمَّا نِمْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّكَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو اسلم کے ایک آدمی نے کہا: جب میں گزشتہ رات کو سویا تو بچھو نے مجھے ڈسا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو شام کو أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَکہتا تو وہ تجھے نقصان نہ دے سکتا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5494]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه مالك في المؤطا: 2/ 951، وابن حبان: 1021، والبيھقي في الاسماء والصفات: ص 170، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8880 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8867»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5495
عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ أَنَّهُ لُدِغَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّكَ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّكَ قَالَ سُهَيْلٌ فَكَانَ أَبِي إِذَا لُدِغَ أَحَدٌ مِنَّا يَقُولُ قَالَهَا فَإِنْ قَالُوا نَعَمْ قَالَ كَأَنَّهُ يَرَى أَنَّهَا لَا تَضُرُّهُ
۔ سیدنا ابو صالح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو اسلم کا آدمی بیان کرتا ہے کہ اس کو ڈسا گیا، جب اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو نے شام کو یہ دعا پڑھی ہوتی أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، تو وہ تجھے نقصان نہ دے سکتا۔ سہیل کہتے ہیں: جب ہم میں سے کوئی ڈسا جاتا تو میرے ابو اس سے پوچھتے: کیا وہ دعا پڑھی تھی؟اگر وہ ہاں میں جواب دیتا تو یوں لگتا کہ میرے ابو کا یہ خیال ہوتا کہ یہ اس کو نقصان نہیں دے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5495]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 3898، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15709 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15800»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں