الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ الْحَقِّ عَلَى الدُّعَاءِ وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِهِ و آدابِهِ وَأَنَّهُ يَنْفَعُ لَا مَحَالَةَ
دعا کرنے کی ترغیب، اس کی فضیلت، اس کے آداب اور اس چیز کا بیان¤کہ دعا لازمی طور پر فائدہ دے گی
حدیث نمبر: 5592
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَمَنَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَنْظُرْ مَا الَّذِي يَتَمَنَّى فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا الَّذِي يُكْتَبُ لَهُ مِنْ أُمْنِيَّتِهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی آدمی تمنا کرنے لگے تو اس کو اپنی تمنا پر غور کر لینا چاہیے، کیونکہ وہ نہیں جانتا ہے کہ اس کی تمنا میں سے کون سی چیز اس کے لیے لکھ لی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5592]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عمر بن ابي سلمة عند التفرد، أخرجه الطيالسي: 2341، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9024 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9012»
وضاحت: فوائد: … انسان کو چاہیے کہ وہ جب بھی سوال کرے، خیر و بھلائی کا سوال کرے، کیونکہ بعض گھڑیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ان میں جو دعا بھی کی جاتی ہے، اس کو قبول کر لیا جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عمر بن ابي سلمة عند التفرد
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5592 in Urdu