الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَطَاءِ السُّلْطَانِ وَكَسْبِ عُمَّالِ الصَّدَقَةِ باب مَا جَاءَ فِي الْكَسْبِ بِالزِرَاعَةِ وَفَضْلِهَا
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
حدیث نمبر: 5736
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْوَالِ السَّلَاطِينَ فَقَالَ مَا آتَاكَ اللَّهُ مِنْهَا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَكُلْهُ وَتَمَوَّلْهُ قَالَ وَقَالَ الْحَسَنُ لَا بَأْسَ بِهَا مَا لَمْ يَرْحَلْ إِلَيْهَا وَيُشْرِفْ لَهَا
۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سلاطین کے مال کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا: ان سے جو مال اللہ تعالی تجھے سوال اور لالچ کے بغیرعطا کر دے، تو اس کو کھا لے اور اپنا مال بنا لے۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: (بادشاہوں کا) وہ مال لینے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ جس کے لیے نہ آدمی کو جانا پڑتا ہے اور نہ وہ اس کی لالچ میں رہتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5736]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27557 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28108»
وضاحت: فوائد: … موجودہ دور میں اربابِ حکومت کے قریب رہنے والوں کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ دنیوی مال و زر تک رسائی حاصل کر لیں،یہ مقصد درست نہیں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلطان کے اس تحفے کو جائز قرار دے رہے ہیں، جس کی لینے والے کو کوئی لالچ اور حرص نہ ہو۔“
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5736 in Urdu