الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب ما جاء فى الكسب بالزراعة وفضلها
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5749
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَغْرِسُ غَرْسًا بِدِمَشْقَ فَقَالَ لَهُ أَتَفْعَلُ هَذَا وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ غَرَسَ غَرْسًا لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ آدَمِيٌّ وَلَا خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ
۔ سیدنا ابودردا ء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں دمشق میں پودے لگارہاتھا، میرے پاس سے ایک آدمی کا گزر ہوا، اس نے مجھ سے کہا: اے ابو درداء! آپ صحابی ہوکر یہ کام کرتے ہیں؟ میں نے کہا: مجھ پر اعتراض کرنے میں جلد بازی مت کرو، میں نے رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جوانسان پودا لگاتاہے پھر اس میں سے جو آدمی، بلکہ اللہ تعالی کی کوئی مخلوق جو کچھ کھاتی ہے، اس کے لیے وہ صدقہ ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5749]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28055»
وضاحت: فوائد: … اعتراض کی وجہ یہ تھی کہ اس آدمی نے دنیا اور اس کی آبادی کی مذمت والی نصوص ذہن نشین کی ہوئی تھیں، ان کی روشنی میں اس نے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ پر اعتراض کیا کہ صحابی ٔ رسول کو زیب نہیں دیتا کہ وہ دنیوی امور کی طرف متوجہ ہوں، آگے سے انھوں نے اپنی حسنِ نیت کے ذریعے اس کا جواب دیا۔
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5749 in Urdu