الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب ما جاء فى التساهل والتسامح فى البيع والإقالة وحسن التقاضي وفضل ذلك
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5794
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَتَاهُ مَلَكُ الْمَوْتِ لِيَقْبِضَ نَفْسَهُ فَقَالَ لَهُ هَلْ عَمِلْتَ مِنْ خَيْرٍ فَقَالَ مَا أَعْلَمُ قِيلَ لَهُ انْظُرْ قَالَ مَا أَعْلَمُ شَيْئًا غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ وَأُجَازِفُهُمْ فَأُنْظِرُ الْمُوسِرَ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسِرِ فَأَدْخَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے (یہ بھی) روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے کی بات ہے کہ ایک آ دمی کے پاس ملک الموت اس کی روح قبض کرنے کے لیے آ یا، اُس نے اس شخص سے پوچھا: تونے بھلائی کا کوئی کام کیا ہے؟ اس نے آدمی نے کہا:مجھے تو معلوم نہیں ہے، اس نے کہا: مزید دیکھ لے، اس نے کہا: کوئی نیک عمل ذہن میں نہیں آ رہا، البتہ میں لوگوں سے خرید و فروخت کرتا اور اندازے سے لین دین کرتا تھا اور مالدار کو مہلت دیتا تھا اور تنگدست سے تجاوز کر جاتا تھا، پس اللہ تعالی نے اس کو اس عمل کی وجہ سے جنت میں داخل کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5794]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2077، 3451، ومسلم: 1560، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23744»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2077
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5794 in Urdu