الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب ما جاء فى التساهل والتسامح فى البيع والإقالة وحسن التقاضي وفضل ذلك
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5795
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَكَانَ يُدَايِنُ النَّاسَ فَيَقُولُ لِرَسُولِهِ خُذْ مَا تَيَسَّرَ وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا فَلَمَّا هَلَكَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ قَالَ لَا إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لِي غُلَامٌ وَكُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ فَإِذَا بَعَثْتُهُ يَتَقَاضَى قُلْتُ لَهُ خُذْ مَا تَيَسَّرَ وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَتَجَاوَزُ عَنَّا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزْتُ عَنْكَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے کبھی کوئی نیکی نہ کی تھی، تاہم وہ لوگوں کے ساتھ تجارتی لین دین رکھتاتھا اس نے اپنے نائب سے کہہ رکھا تھا جوآسانی سے دے سکے اس سے قیمت لے لینا اور جو تنگدست ہواس سے درگزر کرنا، شاید اللہ تعالیٰ ہمیں بھی معاف کردے، جب وہ فوت ہواتو اللہ تعالی نے اس سے پوچھا:کبھی کوئی عمل خیر کیاہے، اس نے کہا:نہیں ایک کام ہے کہ میں لوگوں سے لین دین کرتا تھا تو میں جب اپنے نائب کو قر ضہ کے تقاضا کے لئے بھیجتاتواس سے کہہ رکھا تھا کہ جو آسان دست ہو اس سے لے لینا اور جو تنگدست ہو اس سے درگزر کرنا، شاید اللہ تعالیٰ ہم سے درگزر فرمائے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جامیں نے بھی تجھے معاف کردیا۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5795]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3480، ومسلم: 1562، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8730 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8715»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ میں جن جن مواقع پر نرم خوئی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس وقت ہر تاجر، دوکاندار، قرض خواہ اور حقدار اس نرمی کی رعایت کرنے سے یکسر محروم ہے، الا ما شاء اللہ، ممکن ہے کہ کوئی رعایت کرنے والا ہو، لیکن عوام نے اس کو نہیں دیکھا، ہر قرض خواہ اور قرض دار کے مابین سختی اور تلخی کا معاملہ نظر آتا ہے، اس وجہ سے ہمارے مزاجوں میں تناؤ آ گیا ہے اور ہماری زندگیاں برکتوں سے خالی ہو گئی ہیں۔
قارئین کرام! کچھ افراد تو طبعی طور پر نرم ہوتے ہیں، اگر وہ کچھ سعی کریں تو ان کا مزاج آسانی سے شریعت کے تابع ہو سکتا ہے، لیکن سخت مزاج لوگوں کو شریعت کے مطابق نرم خوئی سے متصف ہونے کے لیے خاصی محنت کرنا پڑے گی اور اس قسم کے ہر معاملے میں تکلف کر کے اپنے مزاج کو شریعت کے تابع کرنا ہو گا، نتیجتاً نہ قرضے لیٹ ہو جانے سے بے سکونی ہو گی اور نہ معاف کرنے سے معاملات رکیں گے، ایسے افراد کو یہ عقیدہ مضبوط کر لینا چاہیے کہ روزی کے اسباب کا مالک اللہ تعالی ہے، ہم خود نہیں ہیں۔
قارئین کرام! کچھ افراد تو طبعی طور پر نرم ہوتے ہیں، اگر وہ کچھ سعی کریں تو ان کا مزاج آسانی سے شریعت کے تابع ہو سکتا ہے، لیکن سخت مزاج لوگوں کو شریعت کے مطابق نرم خوئی سے متصف ہونے کے لیے خاصی محنت کرنا پڑے گی اور اس قسم کے ہر معاملے میں تکلف کر کے اپنے مزاج کو شریعت کے تابع کرنا ہو گا، نتیجتاً نہ قرضے لیٹ ہو جانے سے بے سکونی ہو گی اور نہ معاف کرنے سے معاملات رکیں گے، ایسے افراد کو یہ عقیدہ مضبوط کر لینا چاہیے کہ روزی کے اسباب کا مالک اللہ تعالی ہے، ہم خود نہیں ہیں۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3480
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5795 in Urdu