الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب النهي عن بيوع الغرد
وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
حدیث نمبر: 5820
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَهِبَتِهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ولاء کو فروخت کرنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5820]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2535، ومسلم: 1506، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5496 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5496»
وضاحت: فوائد: … ولائ، نسب کی طرح کا ایک حق ہے، اس لیے جیسے نسب کو فروخت یا ہبہ نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح ولاء کی خرید و فروخت بھی نہیں کی جا سکتی۔
وَلاء: یہ ایک تعلق ہے جو کسی غلام یا لونڈی کو آزاد کرنے سے اس کا اس کے مالک کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے آزاد کنندہ یا اس کے عصبہ بنفسہ آزاد شدہ کے وارث بنتے ہیں۔
وَلاء: یہ ایک تعلق ہے جو کسی غلام یا لونڈی کو آزاد کرنے سے اس کا اس کے مالک کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے آزاد کنندہ یا اس کے عصبہ بنفسہ آزاد شدہ کے وارث بنتے ہیں۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2535
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5820 in Urdu