الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَۃِ .
دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5830
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ شِرَاءِ مَا فِي بُطُونِ الْأَنْعَامِ حَتَّى تَضَعَ وَعَنْ بَيْعِ مَا فِي ضُرُوعِهَا إِلَّا بِكَيْلٍ وَعَنْ شِرَاءِ الْعَبْدِ وَهُوَ آبِقٌ وَعَنْ شِرَاءِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ وَعَنْ شِرَاءِ الصَّدَقَاتِ حَتَّى تُقْبَضَ وَعَنْ ضَرْبَةِ الْغَائِصِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوپائیوں کے حملوں کو جنم لینے سے قبل خریدنے سے، ماپ کے بغیر تھنوں میں موجود دودھ کو خریدنے سے، بھاگے ہوئے غلام کو خریدنے سے، تقسیم سے پہلے غنیمتوں کو خریدنے سے، قبضے میں لینے سے پہلے صدقات کو خریدنے سے اور غوطہ خور کی تجارت سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5830]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا لجھالة محمد بن ابراهيم، ومحمدِ بن زيد العبدي، ولضعف شھر بن حوشب، وجھضمُ اليمامي ثقة الا ان حديثه منكر فيما روي عن المجھولين، وھذا منھا- أخرجه الترمذي: 1563، وابن ماجه: 2196، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11397»
وضاحت: فوائد: … درج بالا دونوں احادیث میں بیان کی گئی بیع کی اقسام میں دھوکہ پایا جاتا ہے، معلوم نہیں کہ بھاگا ہوا غلام یا اونٹ کیسا ہے اور وہ پکڑا بھی جائے گا یا نہیں، اسی طرح حاملہ جانوروں کے پیٹوں میں کیا ہے، وہ مذکر ہے یا مؤنث، اسی طرح تام الخلقت ہے یا ناقص الخلقت، علی ہذا القیاس۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا لجھالة محمد بن ابراهيم
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5830 in Urdu