الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَۃِ .
دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5833
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَصَى وَبَيْعِ الْغَرَرِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنکریوں والی تجارت او ردھوکے والے سودے سے منع فرمایاہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5833]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1513، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7411 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7405»
وضاحت: فوائد: … کنکری کی بیع کی کئی صورتیں ہیں: (۱)فروخت کنندہ، خریدار سے کہے: جب میں کنکری پھینکو ں گا تو تجارت طے ہوجائے گی۔ (۲) خریدار کہے: میں کنکری پھینکوں گا، وہ جس کپڑے کو لگ جائے گی، وہ اتنی قیمت میں میرا ہو جائے گا۔ (۳) اسی طرح ہر وہ سودا جہالت کی وجہ سے اسی قسم میں شامل ہو گا، جس کی بنیاد کنکری پر ہو گی، مثلا زمین کے سودے میں فروخت کنندہ یا خریدار میں سے کوئی ایک کہتا ہے کہ وہ کنکری پھینکے گا، وہ جہاں تک پہنچے گی، اتنی زمین کا سودا اتنے میں ہو جائے گا، علی ہذا القیاس۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1513
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5833 in Urdu