الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب النهي عن بيع المزابنة والمحافلة وعن بيع كل رطب بيابسه
مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5843
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ فَقَالَ أَلَيْسَ يَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ قَالُوا بَلَى فَكَرِهَهُ
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ آیا تر کھجور کو خشک کھجور کے عوض فروخت کیا جا سکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تر کھجور خشک ہو جاتی ہے تو کیا اس کا وزن کم نہیں ہوجاتا۔ لوگوں نے کہا: جی ہاں، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس تجارت کو ناپسند کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5843]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1515»
وضاحت: فوائد: … مذکورہ بالا دونوں احادیث میںسودی کاروبار کی ایک قسم سے منع کیا گیا ہے، اس کو ربا الفضل کہتے ہیں، جس کی تفصیل آگے آئے گی۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1515
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5843 in Urdu