الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب النهي عن بيع المزابنة والمحافلة وعن بيع كل رطب بيابسه
مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5844
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ بِكَيْلٍ مُسَمًّى إِنْ زَادَ فَلِي وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيَّ قَالَ ابْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کا درخت پر لگا ہوا پھل ماپ شدہ کھجوروں کے عوض فروخت کر دیا جائے اور یہ کہا جائے کہ اگر پھل زیادہ ہو گیا تو میرے لیے ہو گا اور اگر کم ہو گیا تو پھر میں اس کا ذمہ دار ہوں گا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اندازے سے بیع عرایا کی اجازت دی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5844]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2172، 2173، 2192، ومسلم: 1539، 1542، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4490»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2172
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5844 in Urdu