🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
ماپ اور وزن کرنے کے حکم اور دو صاع چلائے بغیر اناج کی بیع کرنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5891
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ
۔ سیدنا مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے اناج کو ماپا کرو، اس سے تمہارے لیے اس میں برکت ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5891]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2128، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23904»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل سے، اناج کی مقدار کے معلوم ہو جانے سے، ماپ تول کے وقت بسم اللہ پڑھنے سے اور خاص طور پر مدینہ کا مُدّ اور صاع استعمال ہونے سے اناج میں برکت ہو گی۔
لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا درج ذیل عمل اس حدیث ِ مبارکہ کا معارِض ہے:
سیدہ کہتی ہیں: تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَا فِی بَیْتِی مِنْ شَیْء ٍ یَأْکُلُہُ ذُو کَبِدٍ، إِلَّا شَطْرُ شَعِیرٍ فِی رَفٍّ لِی، فَأَکَلْتُ مِنْہُ حَتّٰی طَالَ عَلَیَّ، فَکِلْتُہُ فَفَنِیَ۔ … جب رسول اللہ Vفوت ہوئے تو میرے گھر میں جاندار کے کھانے کے لیے کوئی چیز نہیں تھی، ما سوائے جوؤں کی کچھ مقدار کے، جو میرے طاق میں پڑے تھے، میں ان سے کھاتی رہی،یہاں تک کہ کافی عرصہ بیت گیا، جب میں نے ان کو ماپا تو وہ ختم ہو گئے۔ (صحیح بخاری: ۳۰۹۷)
حافظ ابن حجر نے ان دو احادیث میں جمع تطبیق کی درج ذیل صورت نکالی ہے:
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ کی حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ غلہ خریدتے وقت اس کو ماپا جائے اور اس ماپ کی وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کو قرار دیا جائے، جب اس حکم کی تعمیل نہیں ہو گی تو نافرمانی کی وجہ سے غلے میں بے برکتی پیدا ہو جائے گی۔ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے عمل کا تعلق اس چیز سے ہے کہ ان کے ماپ کا دارومدار پرکھنے پر تھا، اس لیے بیچ میں نقص آ گیا تھا۔ دونوں احادیث کا ماحصل یہ ہے کہ برکت کا تعلق صرف ماپنے سے نہیں ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے ہے، اسی طرح ماپ کی وجہ سے اس وقت برکت ختم ہو جاتی ہے، جب ماپ کا مقصود حدیث کی معارضت اور اس کو پرکھنا ہو۔ (فتح الباری: ۴/ ۳۴۶)
علامہ سندھیl نے دونوں احادیث کو یوں جمع کیا ہے کہ آدمی گھر میں اناج ڈالتے وقت اس کو نہ ماپے، لیکن جب کھانے کے لیے وہاں سے نکالے تو اس کو ماپے۔
لیکن جو بات ہمیں راجح سمجھ آتی ہے کہ جب آدمی گھر میں اناج لائے تو اس کا ماپ کر کے لائے اور خرید کر لانے کی صورت میں بھی اس کو ماپنا تو پڑے گا، لیکن جب کھانے کے لیے وہاں سے نکالے تو بغیر ماپ کے نکالتا رہے، جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی اپنے تھیلے میں ڈالی ہوئی کھجوروں کو ایسے ہی کھاتے تھے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2128


Al-Fath al-Rabbani Hadith 5891 in Urdu