الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ النَّجْشِ، وَعَنْ بَيْعِ الرَّجُلِ عَلَى بَيْعِ أَخِيْهِ إِلَّا فِي الْمُزَايَدَةِ
بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
حدیث نمبر: 5905
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبِيعْ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کرے، الا کہ وہ اسے اجازت دے دے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5905]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5142، ومسلم: 1412، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4722»
وضاحت: فوائد: … کسی کی بیع پر بیع کرنا، اس کا مفہوم یہ ہے کہ فروخت کنندہ اور خریدار ایک سودا کر رہے ہوں، دونوں رضامند نظر آ رہے ہوں اور عقد کا معاملہ بالکل قریب پہنچ چکا ہو، اتنے میں تیسرا آدمی بیچ میں گھس جائے اور زیادہ قیمت لگا کر مالک کو اپنے طرف مائل کر لے۔ تیسرے آدمی کی اس کاروائی سے مسلمانوں میں دشمنی اور فساد بڑھے گا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع کر دیا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5142
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5905 in Urdu