🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

31. بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ النَّجْشِ، وَعَنْ بَيْعِ الرَّجُلِ عَلَى بَيْعِ أَخِيْهِ إِلَّا فِي الْمُزَايَدَةِ
بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5902
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ أَوْ يَتَنَاجَشُوا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ شہری، دیہاتی کا سامان فروخت کرے یا لوگ بیع نجش کریں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5902]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2140، ومسلم: 1413، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7248 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7247»
وضاحت: فوائد: … بیع نجش: ایسے شخص کا سودے کی قیمت میں اضافہ کرنا جو خود تو اسے خریدنا نہ چاہتا ہو، لیکن کسی اور کو اس میں پھنسانا چاہتا ہو۔ یہ محض ایک دھوکہ ہے۔ اس باب میں مذکورہ زیادہ تر قسمیں وضاحت کے ساتھ پہلے گزر چکی ہیں۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2140
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5903
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبَايَعُوا بِالْحَصَاةِ وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَايَعُوا بِالْمُلَامَسَةِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ تم لوگ کنکری کے ذریعے بیع کرو، نہ بیع نجش کرو اور نہ ملامسہ کی تجارت کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5903]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2140، ومسلم: 1413، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9929»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2140
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5904
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ اسْتِئْجَارِ الْأَجِيرِ حَتَّى يُبَيَّنَ أَجْرَهُ وَعَنِ النَّجْشِ وَاللَّمْسِ وَإِلْقَاءِ الْحَجَرِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدور سے اجرت طے کیے بغیر اسے مزدوری پر رکھنے سے، بیع نجش سے، بیع ملامسہ سے اور پتھر پھینک کرتجارت کرنے سے منع فرمایاہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5904]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: ’’نھي عن استئجار الاجير حتييبين اجره‘‘ وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، ابراهيم بن يزيد النخعي لم يسمع من ابي سعيد۔ أخرجه ابودواد في ’’المراسيل‘‘: 181، وأخرجه موقوفا النسائي: 7/ 31، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11649 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11672»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره دون قوله: ’’نھي عن استئجار الاجير حتييبين اجره‘‘ وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5905
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبِيعْ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کرے، الا کہ وہ اسے اجازت دے دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5905]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5142، ومسلم: 1412، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4722»
وضاحت: فوائد: … کسی کی بیع پر بیع کرنا، اس کا مفہوم یہ ہے کہ فروخت کنندہ اور خریدار ایک سودا کر رہے ہوں، دونوں رضامند نظر آ رہے ہوں اور عقد کا معاملہ بالکل قریب پہنچ چکا ہو، اتنے میں تیسرا آدمی بیچ میں گھس جائے اور زیادہ قیمت لگا کر مالک کو اپنے طرف مائل کر لے۔ تیسرے آدمی کی اس کاروائی سے مسلمانوں میں دشمنی اور فساد بڑھے گا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع کر دیا ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5142
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5906
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ التُّجِيبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى مِنْبَرِ مِصْرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يَبِيعُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَذَرَهُ
۔ عبدالرحمن بن شماسہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ مصر میں منبر پر کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کی تجارت پر تجارت کرے، الا یہ کہ وہ اس کو چھوڑ دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5906]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1414، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17327 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17460»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1414
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5907
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ إِلَّا عَلَى الْغَنَائِمِ وَالْمَوَارِيثِ
۔ زید بن اسلم کہتے ہیں: میں نے سنا کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مُزَایَدہ کی تجارت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز سے منع فرمایا ہے کہ ایک آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے، ماسوائے غنیمت اور وراثت کے مالوں کے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5907]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة۔ أخرجه البيھقي: 5/ 344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5398 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5398»
وضاحت: فوائد: … مُزَایَدہ کا مفہوم یہ ہے کہ ایک آدمی ایک چیز کا ریٹ بتائے، پھر مالک دوسرے لوگوں سے پوچھے کہ اس سے زیادہ کون دے گا، کوئی دوسرا آدمییہ بات سن کر اس پہلے سے زیادہ قیمت لگا دے اور مالک اس کو فروخت کر دے، یہ بات تیسرے چوتھے آدمی تک بھی جا سکتی ہے۔ یہ جائز صورت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا سودا کیا ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة۔ أخرجه البيھقي: 5/ 344
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5908
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَامُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص بھی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5908]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1413، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10849 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10861»
وضاحت: فوائد: … یعنی دو آمیوں نے آپس میں بھائو مقررکرلیا ہے۔ اسے دوبارہ تیسرا آدمی توڑ پھوڑکا شکار نہ کرے کیونکہ اس تجارت کااتعقاد ہوچکا ہے۔ اس طرح نفرت، بغض اور فساد معاشرہ میں جنم لیتاہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1413
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5909
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَاعَ قَدَحًا وَحِلْسًا فِيمَنْ يَزِيدُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک پیالہ اور ایک ٹاٹ اس کو فروخت کئے تھے جس نے قیمت زیادہ لگائی تھی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5909]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال ابي بكر الحنفي۔ أخرجه النسائي: 7/ 259، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11968 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11990»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة حال ابي بكر الحنفي۔ أخرجه النسائي: 7/ 259
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5910
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ أَوْ يَبْتَاعَ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ
۔ سیدنا سمرہ بن حبذب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کرے یا اس کی بیع پر بیع کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5910]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطيالسي: 912، والبزار: 1420، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 6898، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20115 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20376»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره۔ أخرجه الطيالسي: 912
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں